خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 178
خطبات مسرور جلد 13 178 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015ء ( حکیم صاحب کا واقعہ بیان کرتے ہیں ) اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ کتنا یقین اور وثوق تھا کہ کبھی یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ حضرت عیسی وفات پاگئے ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ ” پنجاب کے ایک مشہور طبیب جن کی طبی عظمت کے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے طبیب بھی قائل تھے اور جن کا نام حکیم اللہ دین تھا۔اور بھیرہ کے رہنے والے تھے۔ایک دفعہ ان کے پاس مولوی فضل دین صاحب بھیروی جو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے گہرے دوست اور نہایت مخلص احمدی تھے گئے اور انہیں (حکیم صاحب کو ) کچھ تبلیغ کی۔وہ صاحب باتیں سن کر کہنے لگے۔میاں تم مجھے کیا تبلیغ کرتے ہو تم بھلا جانتے ہی کیا ہو اور مجھے تم نے کیا سمجھانا ہے۔مرزا صاحب کے متعلق تو جو مجھے عقیدت ہے اس کا دسواں بلکہ بیسواں حصہ بھی تمہیں ان سے عقیدت نہیں ہوگی۔مولوی فضل دین صاحب یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سمجھا کہ شاید یہ دل میں احمدی ہیں۔اس لئے انہوں نے کہا اس بات کو سن کر مجھے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ آپ کو حضرت مرزا صاحب سے عقیدت ہے اور میں خوش ہوں گا اگر آپ کے خیالات سلسلہ کے متعلق کچھ اور بھی سنوں۔وہ کہنے لگے آجکل کے جاہل نوجوان بات کی تہہ تک نہیں پہنچتے اور یونہی تبلیغ کرنے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں۔اب تم آگئے ہو مجھے وفات مسیح کا مسئلہ سمجھانے حالانکہ تمہیں معلوم ہی کیا ہے کہ مرزا صاحب کی اس مسئلہ کو پیش کرنے میں حکمت کیا ہے؟ وہ کہنے لگے آپ ہی فرمائیے۔انہوں نے کہا سنو! اصل بات یہ ہے کہ مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کتاب لکھی۔تیرہ سوسال میں بھلا کوئی مسلمان کا بچہ تھا جس نے ایسی کتاب لکھی ہو۔مرزا صاحب نے اس میں ایسے ایسے علوم بھر دیئے کہ کسی مسلمان کی کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔وہ اسلام کے لئے ایک دیوار تھی جس نے اسے دوسرے مذاہب کے حملوں سے بچا لیا لیکن مولوی ایسے احمق اور بے وقوف نکلے کہ بجائے اس کے کہ وہ آپ کا شکر یہ ادا کرتے اور زانوئے ادب تہہ کر کے آپ سے کہتے کہ آئندہ ہم آپ کے بتائے ہوئے دلائل ہی استعمال کیا کریں گے انہوں نے الٹا آپ پر کفر کا فتویٰ لگا دیا اور اسلام کی اتنی عظیم الشان خدمت دیکھنے کے باوجود جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیرہ سو سال میں اور کسی نے نہ کی یہ (مولوی) آپ کے خلاف کفر کے فتوے دینے لگے اور اپنی علمیت جتانے لگ گئے اور سمجھنے لگے کہ ہم بڑے آدمی ہیں۔اس پر مرزا صاحب کو غصہ آنا چاہئے تھا اور آیا۔یہ حکیم صاحب فرماتے ہیں۔اب یہاں سے حکیم صاحب اپنی دلیل شروع کر رہے ہیں۔چنانچہ انہوں نے مولویوں سے کہا کہ اچھا تم بڑے عالم بنے پھرتے ہو۔اگر تمہیں اپنی علمیت پر ایسا ہی گھمنڈ ہے تو دیکھ لو کہ حیات مسیح کا عقیدہ قرآن سے اتنا ثابت ہے اتنا ثابت ہے کہ اس کے خلاف حضرت مسیح کی وفات ثابت کرنا ناممکن نظر آتا ہے لیکن میں قرآن سے ہی حضرت مسیح کی وفات ثابت کر کے دکھاتا ہوں۔اگر تم میں ہمت ہے تو اس کا رڈ کرو۔چنانچہ