خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 177

خطبات مسرور جلد 13 177 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 مارچ 2015ء کے غلط معنی لیتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ چونکہ ہم گند اچھالتے ہیں اور یہ نہیں اچھالتے اس لئے معلوم ہوا کہ واقعہ میں ان کے سردار میں یہ باتیں پائی جاتی ہیں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ دنوں کے بعد دن گزرے، ہفتوں کے بعد ہفتے ، سالوں کے بعد سال اور صدیوں کے بعد صدیاں۔سات آٹھ سو سال تک عیسائی متواتر ( مسلمانوں پر یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ) گندا چھالتے رہے اور مسلمان انہیں معاف کرتے رہے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی کہ اب ذرا تم بھی ہاتھ دکھاؤ اور انہیں بتاؤ کہ ہمیں تم میں کوئی عیب نظر آتا ہے یا نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے یسوع کو مخاطب کرتے ہوئے وہ باتیں لکھنی شروع کیں جو یہودی آپ کے متعلق کہا کرتے تھے یا خود مسیحیوں کی کتابوں میں لکھی تھیں۔ابھی اس قسم کی دو چار کتا بیں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھی تھیں کہ ساری عیسائی دنیا میں شور مچ گیا کہ یہ طریق اچھا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے فرمایا کہ ہم نے تم کو کہا تھا کہ تمہارا طریق اچھا نہیں مگر تم ہماری بات کو سمجھانہ کرتے تھے۔آخر جب خود تم پر زد پڑنے لگی تو تمہیں ہوش آ گیا اور تم کہنے لگ گئے کہ یہ طریق درست نہیں۔“ (الفضل قادیان مورخہ 8 دسمبر 1938 ء صفحہ 6، 7 جلد 26 نمبر 283) بعض دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو سخت الفاظ استعمال کئے ہیں تو جواب میں کئے ہیں نہ کہ پہل کی ہے۔پنجاب کے ایک بڑے مشہور طبیب جن کی حضرت خلیفہ اول بھی بڑی قدر کرتے تھے، ان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہ طبیب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑی عقیدت رکھتے تھے لیکن اس عقیدت کے باوجود آپ کے دعوے کو نہیں مانتے تھے۔ان کا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔حکیم صاحب کے خیال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو وفات مسیح کا اعلان ہے اس کی وجہ کچھ اور تھی۔بہر حال حضرت مصلح موعود نے شروع اس طرح کیا کہ حضرت شعیب جولوگوں سے کہتے کہ تم دوسروں کا مال نہ لوٹو۔اپنے مال کو ناجائز کاموں میں صرف نہ کرو تو آپ کی باتوں سے آپ کی قوم حیران ہوتی تھی اور کہتی تھی کہ شعیب پاگل ہو گیا ہے اور دیوانوں کی سی باتیں کرتا ہے۔(آپ فرماتے ہیں کہ ) اس زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لوگوں نے (نعوذ باللہ ) پاگل کہا۔جب آپ نے وفات مسیح کا مسئلہ دنیا کے سامنے پیش کیا تو مسلمان سمجھ ہی نہ سکے کہ جب 1300 سال سے یہ مسئلہ امت محمدیہ کے اکا بر پیش کرتے چلے آ رہے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں تو وہ فوت کس طرح ہو گئے۔لوگوں کو اس مسئلہ کے متعلق جس قدر یقین اور وثوق تھا وہ اس واقعہ سے