خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 152
خطبات مسرور جلد 13 152 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015 ء بخو طہ صاحب کے رویے اور ان کے اخلاق سے بہت متاثر تھے اور انہوں نے بار بار اس کا اظہار بھی کیا کہ ہم نے آج تک اس سے زیادہ صبر والا اور خدا تعالیٰ پر توکل کرنے والا مریض نہیں دیکھا۔مربی صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میٹنگ تھی اور اس میں فیصلہ ہونا تھا کہ مہمان نوازی کے لئے جولوگوں نے آنا ہے ان کے لئے کتنے لوگوں کا کھانا تیار کیا جائے، کتنی چیزیں بنائی جائیں اور لمبی بحث چلنی شروع ہو گئی کہ اتنی تعداد میں بنائی جائے یا اتنی تعداد میں بنائی جائے۔سمیر بخوطہ صاحب بھی بحیثیت نمائندہ وہاں موجود تھے۔اس پر انہوں نے بڑی ناراضگی کا اظہار کیا۔کہنے لگے کہ ہم کوئی چھوٹے بچے نہیں ہیں کہ ہمیں قواعد نئے سرے سے سکھائے جائیں اور نہ ہی یہ جماعت ہمارے لئے کوئی نئی چیز ہے۔ہمارے پاس ایک نظام ہے اور وہ نظام یہ ہے کہ خلیفہ وقت کے نمائندے ہم میں موجود ہیں، یعنی مربی موجود ہیں، وہ جو بھی ہمیں کہیں ہم نے بس اس کی اطاعت کرنی ہے۔اس لئے اتنی تعداد میں بنائی جائے یا اتنی بنائی جائے اس کو چھوڑو اور جس طرح یہ کہتے ہیں ، فیصلہ کرتے ہیں اس کے مطابق عمل کرو۔پس یہ روح ہے جب پیدا ہو جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتوں میں اتفاق بھی ہوتا ہے، اتحاد بھی ہوتا ہے اور ترقی بھی ہوتی ہے۔ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہر مقام پر جہاں بھی ہمیں موقع ملے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچا ئیں، آگے ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔کہا کرتے تھے کہ تبلیغ میرا آکسیجن ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کاسل (Kassel) میں کافی غیر پاکستانی احمدی ہیں اور یہ سب انہی کی بدولت اور انہی کی محنت سے احمدیت میں شامل ہوئے ہیں۔اپنے پیچھے انہوں نے اہلیہ مریم بخوطہ صاحبہ کے علاوہ تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔بڑے بیٹے نورالدین شادی شدہ ہیں اور دوسرے عبد الحکیم اور منیر احمد ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ان کے پاس ایک بیگ ہوا کرتا تھا، ہمیشہ جب بھی سفر پر جاتے تو بیگ رکھا کرتے تھے بلکہ اب بھی انہوں نے الجزائر جانے کے لئے سیٹیں بک کروائی ہوئی تھیں لیکن زندگی نے ساتھ نہیں دیا۔امیر صاحب فرانس کہتے ہیں ان کی وفات کے بعد یہ بیگ ان کی اہلیہ کے سپرد کیا گیا تو دیکھا تو اس میں دو قمیصیں، ایک پاجامہ اور ایک گرم کوٹ ہے۔اس کے علاوہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی چار عربی کتب اور جو میری طرف سے خط ان کو گئے ہوئے تھے وہ خط انہوں نے رکھے ہوئے تھے اور عربی زبان کے سو (100) بیعت فارم اس بیگ میں تھے۔یہ گل سفر کا ان کا بیگ ہوتا تھا جس کو ہر وقت وہ ساتھ رکھتے تھے۔