خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 153

خطبات مسرور جلد 13 153 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015 ء صدر جماعت الجزائر ہیں فالی محمد صاحب وہ کہتے ہیں کہ بہت با اخلاق انسان اور خلیفہ وقت کی بہترین نمائندگی کرنے والے تھے۔کہتے ہیں میری پہلی ملاقات ان سے 2007ء میں ہوئی۔اس کے بعد مرحوم نے خلیفہ وقت کی ہدایات کے مطابق یہاں جماعت قائم کی۔بیماری کے باوجود دورے کرتے۔کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا۔ہمیشہ اعلائے کلمتہ الحق کی خاطر صبر سکھایا۔بڑی خواہش تھی کہ الجزائر میں اپنی مسجد ہو اور اس میں نماز ادا کریں۔الجزائر کے ہی اعمراش حمید صاحب کہتے ہیں کہ بڑی مؤثر شخصیت کے مالک تھے اور تعارف کے بعد سے ہی آپ کے لئے جذبات محبت پیدا ہو گئے تھے۔مرحوم سے پہلی ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کہ اس علاقے میں ہماری اپنی کوئی مسجد ہو سکتی ہے؟ مسکرا کر کہنے لگے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ یقینا سچا ہے۔اگر اس دن جب یہاں مسجد بنے میں حاضر نہ ہوں تو مجھے بھول نہ جانا اور دعاؤں میں یا د رکھنا۔ایک دن بخوطہ صاحب نے بتایا کہ افریقہ کے دورے کے دوران ایک بوڑھے شخص نے آپ کو ہاتھ پکڑ کر پوچھا کہ کیا آپ کو ایک خزانہ دکھاؤں؟ پھر اپنی جیب سے بیعت کی قبولیت کا خط ایک پلاسٹک کور میں محفوظ کیا ہوا دکھایا کہ یہ خزانہ ہے جس کی حفاظت ضروری ہے۔تو یہ لوگ ہیں جو احمدی ہوئے اور اپنے اخلاص و وفا میں بڑھتے چلے جارہے ہیں۔جرمنی سے عبد الکریم صاحب لکھتے ہیں کہ خلفائے احمدیت سے جنون کی حد تک محبت کرنے والے، حکام بالا کی اطاعت کرنے والے تبلیغ کے جذبے سے سرشار مخلص اور فدائی احمدی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جن کتب کا بھی ترجمہ ہو چکا تھا یا جوعربی میں تھیں ان کو تین مرتبہ پڑھا اور بہت سا حصہ زبانی یا د کیا۔جب آپ کا سل (Kassel) کے امیر تھے تو آپ کی تبلیغ سے 18 مختلف قومیتوں کے افراد احمدی ہوئے۔آپ نے ان کی تربیت بھی کی اور انہیں جماعت کا فعال حصہ بنایا۔کاسل (Kassel) کے نماز سینٹر میں ستر سے نوے عرب احمدیوں کی کلاس لگاتے تھے جن میں عرب دوست اپنے غیر احمدی دوستوں کو بھی ساتھ لاتے تھے۔کامل (Kassel) کی جماعت کے لئے ایک فرشتہ تھے۔مسجد حاصل کرنے میں بھی آپ کا بہت بڑا کردار ہے۔عربی فرینچ اور جرمن میں ان کو کافی عبور تھا۔سمیع قریشی صاحب کہتے ہیں جب میرے ذریعہ سے انہوں نے بیعت کی اور حضرت خلیفہ رابع کو جب یہ بیعت فارم بھجوایا گیا، بیعت کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام يَنْصُرُكَ رِجَالُ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاء - کے مصداق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے ثابت بھی کیا۔