خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 151
خطبات مسرور جلد 13 151 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015ء زیادہ ہے۔پیدل ہی چل پڑے اور کئی کئی میل پیدل چلتے ہوئے لٹریچر تقسیم کرتے تبلیغ کرتے اور سوالوں کے جواب دیتے۔خلافت سے ان کو عشق تھا اور ہر خط جن کا جواب میری طرف سے موصول ہوتا تھا اس کو بڑا سنبھال کر رکھتے تھے اور بڑا احترام کرتے تھے۔الجزائر کے بہت سے دورے کئے اور وہاں جماعتوں کو آرگنا ئز کیا۔صدر صاحب الجزائر نے بتایا کہ سخت گرمی کے باوجود ایسے علاقوں میں جہاں پہنچنا مشکل تھا گاؤں گاؤں پیدل گئے اور باوجود شوگر کی تکلیف کے مسلسل کام کرتے رہے۔امیر صاحب فرانس کے ساتھ مراکش کے دورے کئے۔ایک دفعہ عید الفطر بھی وہیں گزاری اور رمضان بھی وہیں گزارا۔احمدیوں کے گھر گھر جاتے ، انہیں اکٹھا کرتے ، نظام جماعت کے بارے میں بتاتے۔بڑی مستقل مزاجی سے انہوں نے خدمت کی ہے۔نہ صرف تبلیغ کی بلکہ جن کو تبلیغ کرتے تھے ان کی تربیت بھی کی اور جماعتوں کو آرگنا ئز بھی کیا۔تیونس میں تبلیغی سفر کے دوران ایک دفعہ پولیس نے پکڑ لیا۔حراست میں بھی رہے۔اس کے بعد پھر یورپین پاسپورٹ کی وجہ سے ان کو چھوڑ دیا گیا۔امیر صاحب فرانس کہتے ہیں کہ اگر میں یہ بات کہوں کہ وہ ایک جن کی طرح تبلیغ کرتے تھے تو غلط نہ ہوگا۔آخری وقت میں بھی احباب کو تبلیغ کرنے کی اور جماعت کے کام کرنے کی نصیحت کرتے رہے۔اور جو اس وقت کامل (Kassel) میں ہمارے مربی ہیں ان کو انہوں نے وفات کے وقت یہی کہا جو مجھے پیغام بھجوایا کہ اگر کام کرنے میں مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہو تو معاف کر دیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے انتہائی وفا کے ساتھ نہ صرف اپنے عہد بیعت کو نبھایا بلکہ دین کی خدمت کا بھی جو عہد کیا تھا اس کو بھی اس کی جو انتہا ہو سکتی تھی اس تک پہنچانے کی کوشش کی۔خدمت دین ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا اور خلافت کی اطاعت اس طرح تھی کہ انسان تصور نہیں کر سکتا کہ نیا احمدی ہوا ہوا اس حد تک اطاعت کے جذبے سے سرشار ہو گا۔وہاں کاسل (Kassel) کے جو مربی سفیر الرحمن ہیں، لکھتے ہیں کہ گزشتہ جمعہ کے روز ہسپتال کی انتظامیہ سے بڑی مشکل سے جمعہ پڑھنے کی اجازت لے کر آئے اور مسجد میں تشریف لائے اور تصاویر کھنچوائیں اور کہتے تھے کہ میرا یہ آخری جمعہ ہے۔یہ ان کو پتا تھا۔آخری ایام میں بھی ان کا یہی مطالبہ تھا کہ مربی صاحب کو کہتے ہیں کہ انہیں جلد از جلد حضرت مصلح موعود کی تصنیف ذکر الہی کی دو عدد کا پیاں دی جائیں۔یہ انہوں نے اپنے زیر تبلیغ ڈاکٹر زکو پہنچانی تھیں۔اور مربی صاحب کہتے ہیں جیسے ہی میں نے ہسپتال میں یہ تصنیف پہنچائی تو سمیر صاحب نے اہلیہ سے کہا کہ جلدی سے ڈاکٹر ز کو دے آؤ اور وہ ڈاکٹر صاحب بھی سمیر