خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 149
خطبات مسرور جلد 13 149 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015ء بڑی بڑی تنخواہیں وصول کر کے اس کی غداری کرتے ہو۔تمہیں تقویٰ و طہارت سے کام لے کر اسلامی حکومت کو مضبوط کرنا چاہئے تو وہ یہاں سے بڑے غصے میں گیا اور اس نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ اسلامی حکومت کی ہتک کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ ترکی حکومت میں بعض کچے دھاگے ہیں۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) مسلمان عام طور پر دین سے محبت رکھتے ہیں مگر افسوس کہ مولوی انہیں کسی بات پر صحیح طرح غور کرنے نہیں دیتے۔یہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ عوام الناس اپنے دلوں میں خدا کا خوف رکھتے اور سچائی سے پیار کرتے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ مولوی انہیں کسی بات پر غور کرنے نہیں دیتے اور جھٹ اشتعال دلا دیتے ہیں۔اس موقع پر بھی مولویوں نے عام شور مچا دیا کہ ترکی کی حکومت جو محافظ حرمین شریفین ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی ہتک کی ہے۔جب یہ شور بلند ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے جواب میں لکھا کہ تم یہ کہتے ہو کہ ترکی کی حکومت مکہ اور مدینہ کی حفاظت کرتی ہے۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ ترکی کی حکومت چیز ہی کیا ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ کی حفاظت کرے۔مکہ اور مدینہ تو خود ترکی کی حکومت کی حفاظت کر رہے ہیں۔مقامات مقدسہ کیلئے غیرت ( یہ بیان کر کے پھر آپ نے فرمایا کہ ) جس شخص کے دل میں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے متعلق اتنی غیرت ہو اس کے ماننے والوں کے متعلق کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بج جائے تو وہ خوش ہوں۔ہم تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ تسلیم کیا جائے کہ حقیقی طور پر مکہ اور مدینہ کی کوئی حکومت حفاظت کر رہی ہے۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ عرش سے خدا مکہ اور مدینہ کی حفاظت کر رہا ہے۔کوئی انسان ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ہاں ظاہری طور پر ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی دشمن ان مقدس مقامات پر حملہ کرے تو اس وقت انسانی ہاتھ کو بھی حفاظت کے لئے بڑھایا جائے لیکن اگر خدانخواستہ کبھی ایسا موقع آئے تو اس وقت دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حفاظت کے متعلق جو ذمہ داری خدا تعالیٰ نے انسانوں پر عائد کی ہے اس کے ماتحت جماعت احمدیہ کس طرح سب لوگوں سے زیادہ قربانی کرتی ہے۔ہم ان مقامات کو مقدس ترین مقامات سمجھتے ہیں۔ہم ان مقامات کو خدا تعالیٰ کے جلال کے ظہور کی جگہ سمجھتے ہیں اور ہم اپنی عزیز ترین چیزوں کو ان کی حفاظت کے لئے قربان کرنا سعادت دارین سمجھتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جو شخص ترچھی نگاہ سے مکہ کی طرف ایک دفعہ بھی دیکھے گا خدا اس شخص کو اندھا کر دے گا اور اگر خدا تعالیٰ نے کبھی یہ کام انسانوں سے لیا تو جو ہاتھ اس بد ہیں آنکھ پھوڑنے کے لئے آگے