خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 148
خطبات مسرور جلد 13 148 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015 ء تو کر سکے۔یہ بہت بڑی گستاخی اور بے ادبی سمجھی جاتی تھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو ایک خط لکھا جس میں اسے اسلام کی طرف بلایا اور کہا کہ اگر اسے قبول کر لو گی تو آپ کا بھلا ہوگا۔یہ سن کر بجائے اس کے کہ ان کی طرف سے کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا جاتا اس چھٹی کے متعلق اس طرح شکر یہ ادا کیا گیا کہ ہم کو آپ کی چھٹی مل گئی ہے جسے پڑھ کر خوشی ہوئی۔“ الفضل 19 اگست 1916 ء صفحہ 7 جلد 4 نمبر 13 ) تو آج جو ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتے ہیں وہ تو آج بھی کبھی ان لیڈروں کو اسلام کی تبلیغ نہیں کر سکتے۔ایک ترک سفیر ایک دفعہ قادیان آیا۔اس کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”آج سے کئی سال پہلے جب بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ تھے ایک ترکی سفیر یہاں آیا۔ترکی حکومت کو مضبوط بنانے کے لئے اس نے مسلمانوں سے بہت سا چندہ لیا اور جب اس نے جماعت احمدیہ کا ذکر سنا تو قادیان بھی آیا۔حسین کامی اس کا نام تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس کی گفتگو ہوئی۔اس کا خیال تھا کہ مجھے یہاں سے زیادہ مدد ملے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا وہ احترام کیا جو ایک مہمان کا کرنا چاہئے۔پھر مذہبی گفتگو بھی ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے کچھ نصائح کیں کہ دیانت و امانت پر قائم رہنا چاہئے۔لوگوں پر ظلم نہیں کرنا چاہئے۔( یہی آجکل مسلمان لیڈروں کے لئے مسلمان ملکوں میں ضروری ہے) اور فرمایا کہ رومی سلطنت ایسے ہی لوگوں کی شامت اعمال سے خطرے میں ہے کیونکہ وہ لوگ جو سلطنت کی اہم خدمات پر مامور ہیں اپنی خدمات کو دیانت سے ادا نہیں کرتے اور سلطنت کے سچے خیر خواہ نہیں بلکہ اپنی طرح طرح کی خیانتوں سے اسلامی سلطنت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ سلطان روم (جوتر کی کا بادشاہ تھا یا اس وقت خلافت کہلاتی تھی) کی سلطنت کی اچھی حالت نہیں ہے اور میں کشفی طریق سے اس کے ارکان کی حالت اچھی نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ان حالتوں کے ساتھ انجام اچھا نہیں اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازے میں ایسے دھاگے ہیں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری کی سرشت ظاہر کرنے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ صیحتیں کیں تو اس سفیر کو بہت بری لگیں کیونکہ وہ اس خیال کے ماتحت آیا تھا کہ میں سفیر ہوں اور یہ لوگ میرے ہاتھ چومیں گے اور میری کسی بات کا انکار نہیں کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اس سے یہ کڑوی کڑوی باتیں کیں کہ تم حکومت سے