خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 150

خطبات مسرور جلد 13 150 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015ء بڑھیں گے ان میں ہمارا ہاتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے سب سے آگے ہوگا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 16 صفحہ 547 تا 549 - خطبہ جمعہ فرمودہ 30 اگست 1935ء) اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج بھی ہر احمدی کے دل میں مقامات مقدسہ کے بارے میں یہی جذبات ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ایمان اور یقین میں بھی ہمیشہ اضافہ کرتا رہے اور ہمیشہ ہمیں قربانی کرنے والوں کی صف اول میں رکھے۔نمازوں کے بعد میں دو جنازے غائب پڑھاؤں گا۔ایک مکرم سمیر بخوطہ صاحب کا ہے جو 24 فروری 2015ء کی صبح جرمنی میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ بڑے عرصے سے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے لیکن اس تکلیف کے باوجود آپ مسلسل خدمت دین میں مصروف رہے۔ان کی 58 سال عمر تھی۔11 مئی 1957ء کو الجزائر میں پیدا ہوئے اور 1991ء میں انہوں نے حضرت خلیفتہ اسیح الرابع کے ہاتھ پر بیعت کی۔امیر صاحب فرانس لکھتے ہیں کہ وہ کہا کرتے تھے کہ میں نے اس کثرت سے خواب دیکھے ہیں کہ میرے لئے کوئی گنجائش نہیں رہی کہ میں احمدیت قبول نہ کرتا۔1993 سے 94 ء تک جرمنی کی جماعت کامل (Kassel) کے صدر کے طور پر خدمت کرتے رہے۔1994ء سے 99 ء تک بطور لوکل امیر کاسل (Kassel) خدمت کی توفیق پائی۔99 ء سے 2003 ء تک ریجن ہیسن (Hessen) نارتھ کے ریجنل امیر کی حیثیت سے خدمت بجالانے کی توفیق پائی۔امیر صاحب فرانس لکھتے ہیں کہ 1998ء کے جلسہ سالانہ فرانس میں شامل ہوئے۔خاکسار کی ان سے پہلی ملاقات تھی۔گفتگو کے دوران کہنے لگے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو دو دیوانوں کا ذکر فرمایا ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ ان دیوانوں میں سے ایک میں ہوں۔اور اس کے بعد پھر انہوں نے واقعی دیوانوں کی طرح تبلیغ کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔2006ء میں انہوں نے مجھے لکھا تھا کہ میں بحیثیت معلم خدمت دین کے لئے وقف کرتا ہوں۔پہلے بھی خدمت کرتے تھے۔تو بہر حال اس کے بعد سے لے کر تا دم آخر انہوں نے بڑے احسن رنگ میں خدمت سر انجام دی۔امیر صاحب فرانس ہی لکھتے ہیں کہ عاجز نے سمیر بخو طہ صاحب کوگزشتہ 16 سال سے تبلیغ میں دیوانوں کی طرح کام کرتے دیکھا ہے۔کیا فرانس کی گلیاں اور کیا مراکش، تیونس یا الجزائر یا کری باس(Caraibes) کے جزائر گلی گلی گھر گھر پیدل جانا پڑا تو کبھی یہ نہیں کہا کہ گاڑی نہیں ہے یا فاصلہ