خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 146 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 146

خطبات مسرور جلد 13 146 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015ء گھبراہٹ میں اپنے مکان کی چھت پر چڑھ کر ٹہلنا شروع کر دیا۔وہ ٹہلتا جا تا تھا اور کہتا جاتا تھا مہن لوگ گمراہ ہون گے۔بہن لوگ گمراہ ہون گے، یعنی اب لوگ گمراہ ہو جائیں گے۔اس نے یہ نہ سمجھا کہ جب پیشگوئی پوری ہو گئی ہے تو لوگ حضرت مرزا صاحب کو مان کر ہدایت پائیں گے۔گمراہ نہیں ہوں گے۔آپ فرماتے ہیں کہ عیسائی بھی ایک طرف تو یہ مانتے تھے کہ وہ تمام علامتیں پوری ہوگئی ہیں جو پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں مگر دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ سن کر وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اس وقت اتفاقی طور پر ایک جھوٹے نے دعویٰ کر دیا۔جیسے مسلمان کہتے ہیں علامتیں تو پوری ہو گئیں مگر اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس وقت ایک جھوٹے نے دعویٰ کر دیا ہے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ ایسا اتفاق ایک جھوٹے کو ہی نصیب ہوتا ہے (اور ) سچے کو نصیب نہیں ہوتا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 10 صفحه 56) جھوٹے کے حق میں تو تائیدات ظاہر ہوتی ہیں اور سچوں کے حق میں آجکل کچھ نہیں ہو رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عفو اور درگذر کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ جس جس رنگ میں دشمنوں نے آپ کا مقابلہ کیا دوست جانتے ہیں۔دشمنوں نے گمہاروں کو آپ کے برتن بنانے سے، سقوں کو پانی دینے سے بند کر دیا۔لیکن پھر جب کبھی وہ معافی کے لئے آئے تو حضرت صاحب معاف ہی فرما دیتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے کچھ مخالف پکڑے گئے تو مجسٹریٹ نے کہا کہ میں اس شرط پر مقدمہ چلاؤں گا کہ مرزا صاحب کی طرف سے سفارش نہ آئے کیونکہ اگر انہوں نے بعد میں معاف کر دیا تو پھر مجھے خواہ مخواہ ان کو گرفتار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔مگر دوسرے دوستوں نے کہا کہ نہیں اب انہیں سز ا ضرور ہی ملنی چاہئے۔جب مجرموں نے سمجھ لیا کہ اب سز ا ضرور ملے گی تو انہوں نے حضرت صاحب کے پاس آ کر معافی چاہی تو حضرت صاحب نے کام کرنے والوں کو بلا کر فرمایا کہ ان کو معاف کر دو۔انہوں نے کہا ہم تو اب وعدہ کر چکے ہیں کہ ہم کسی قسم کی سفارش نہیں کریں گے۔حضرت اقدس فرمانے لگے کہ وہ جو معافی کے لئے کہتے ہیں تو ہم کیا کریں۔مجسٹریٹ نے کہا دیکھا وہی بات ہوئی جو میں پہلے کہتا تھا۔مرزا صاحب نے معاف کر ہی دیا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 10 صفحہ 277۔خطبہ جمعہ فرموده 19 نومبر 1926ء) یہ جو واقعات ہیں، ہمیں ان سے صرف محظوظ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنے اوپر لاگو بھی کرنے