خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 147
خطبات مسرور جلد 13 147 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015 ء چاہئیں۔معافی اور درگزر کی طرف کافی توجہ کی ضرورت ہے۔پھر ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے آپ اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو نہایت ٹھنڈے دل کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا کرتے ہیں۔میں نے اپنے کانوں سے مخالفین کی گالیاں سنیں اور اپنے سامنے بٹھا کر سنیں مگر باوجود اس کے تہذیب اور متانت کے ساتھ ایسے لوگوں سے باتیں کرتا رہا۔( فرماتے ہیں کہ ) میں نے پتھر بھی کھائے۔اس وقت بھی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر امرتسر میں پتھر پھینکے گئے۔اس وقت میں بچہ تھا مگر اس وقت بھی خدا تعالیٰ نے مجھے حصہ دے دیا۔لوگ بڑی کثرت سے اس گاڑی پر پتھر مار رہے تھے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیٹھے تھے۔میری اس وقت چودہ پندرہ سال کی عمر ہو گی۔گاڑی کی ایک کھڑ کی کھلی تھی۔میں نے وہ کھڑ کی بند کرنے کی کوشش کی لیکن لوگ اس زور سے پتھر مار رہے تھے کہ کھڑ کی میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور پتھر میرے ہاتھ پر لگے۔پھر جب سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر پتھر پھینکے گئے اس وقت بھی مجھے لگے۔پھر جب تھوڑا عرصہ ہوا میں سیالکوٹ گیا تو با وجود اس کے کہ جماعت کے لوگوں نے میرے اردگر دحلقہ بنالیا تھا مجھے چار پتھر لگے۔“ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 508) پھر آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے مخالفین کو تحریک کی کہ ایسے جلسے منعقد کئے جائیں جن میں ہر شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے۔آپ نے یہ نہیں کہا کہ چونکہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں اس لئے باقی سب لوگ اپنے اپنے مذہب کی تبلیغ بند کر دیں۔آپ نے ایسا نہیں کیا کیونکہ آپ جانتے تھے کہ باقی لوگوں کو بھی تبلیغ کا ویسا ہی حق ہے جیسا مجھے۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ تم اپنی بات پیش کرو، میں اپنی بات پیش کرتا ہوں اور جب تک یہ طریق نہ پیش کیا جائے امن کبھی نہیں ہوسکتا اور حق نہیں پھیل سکتا۔دنیا میں کون ہے جو اپنے آپ کو حق پر نہیں سمجھتا لیکن جب خیالات میں اختلاف ہو تو ضروری ہے کہ اسے ظاہر کرنے کا موقع دیا جائے۔“ خطبات محمود جلد 12 صفحہ 418۔خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مئی 1930ء) یہی بات اگر حکومت پاکستان سمجھ لے یا عرب دنیا میں لوگ سمجھ لیں تو پھر تبلیغ کے بڑے رستے وسیع ہو جائیں اور ان کو خود پتا لگ جائے کہ کون حق پر ہے اور کون غلط۔پھر ملکہ کو تبلیغ کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ ”پہلے زمانوں میں کیا مجال تھی کہ کوئی بادشاہ کو تبلیغ