خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 145 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 145

خطبات مسرور جلد 13 145 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015 ء حضرت خلیفہ اول کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اندھا اعتقاد تھا۔لیکن بعض دفعہ عدم علم ہوتا ہے اس لئے الٹ بات ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اس لئے میں پروف پڑھنے کے لئے بھیجتا ہوں کہ کتابیں پڑھنے کی ان کو فرصت نہیں ہوتی تو پروف پڑھنے سے ہمارے خیالات سے ان کو واقفیت ہو جائے۔اور پھر حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) پڑھنے کے باوجود یہ ضروری نہیں کہ ہر بات یاد بھی ہو۔مثلاً حضرت یحی علیہ السلام کے قتل کے متعلق حوالے میں نہیں نکال سکا اور مولوی محمد اسماعیل صاحب کو کہلا بھیجا کہ نکال دیں۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) میرا حافظہ اس قسم کا ہے کہ قرآن کریم کی وہ سورتیں بھی جو روز پڑھتا ہوں ان میں سے کسی کی آیت نہیں نکال سکتا لیکن دلیل کے ساتھ جس کا تعلق ہو وہ خواہ کتنا عرصہ گزر جائے مجھے یا درہتی ہے۔جن باتوں کا یا درکھنا میرے کام سے تعلق نہ رکھتا ہو وہ مجھے یاد نہیں رہتیں۔حوالے میں سمجھتا ہوں کہ دوسروں سے نکلوالوں گا اس لئے یاد نہیں رکھ سکتا۔(ماخوذ از الفضل 10 ستمبر 1938 صفحہ 6، 7 جلد 26 نمبر 209) تو اس سے ایک بات تو یہ واضح ہوگئی کہ خلفاء اگر کوئی ایسی تشریح کرتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی واضح تشریح سے الٹ ہے تو اس کے بارے میں اطلاع کر دینی چاہئے اور اگر خلیفہ وقت سمجھے کہ یہ جو تشریح کی گئی تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس سے اس کی یہ تشریح ہو سکتی تھی تو پھر وہی تسلیم ہوگی اور اگر نہیں تو پھر وہ اپنی بات کو درست کر لے گا۔لیکن بہر حال یہ سمجھنا کہ اس نے یہ کہا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا۔آپس میں تضاد کیوں ہے؟ یہ باتیں غلط ہیں۔تضاد کوئی نہیں ہوتا ، ہاں بعض دفعہ عدم علم ضرور ہوتا ہے۔پھر ایک چاند اور سورج گرہن کے واقعہ کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ ہماری جماعت کا یہ بڑا مشہور واقعہ ہے کہ ایک مخالف مولوی جو غالباً گجرات کا رہنے والا تھا ہمیشہ لوگوں سے کہتا رہتا تھا کہ مرزا صاحب کے دعوے سے بالکل دھو کہ نہ کھانا۔حدیثوں میں صاف لکھا ہے کہ مہدی کی علامت یہ ہے کہ اس کے زمانے میں سورج اور چاند کو رمضان کے مہینے میں گرہن لگے گا۔جب تک یہ پیشگوئی پوری نہ ہو اور سورج اور چاند کو رمضان کے مہینے میں گرہن نہ لگے ان کے دعوے کو ہر گز سچا نہیں سمجھا جا سکتا۔اتفاق کی بات کہ وہ (مولوی) ابھی زندہ ہی تھا کہ سورج اور چاند کے گرہن کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔( گرہن لگ گیا تو ) اس (مولوی) کے ہمسائے میں ایک احمدی رہتا تھا اس نے سنایا کہ جب سورج کو گرہن لگا تو اس مولوی نے