خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 142

خطبات مسرور جلد 13 142 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015ء پھر آپ نے فرمایا) پھر ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے بزرگوں کی عزت کریں لیکن جب ہم ان کو انبیاء کے مقابلے پر کھڑا کرتے ہیں تو گویا خواہ مخواہ ان کی ہتک کراتے ہیں۔ہر شخص کا اپنا اپنا مذاق ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں عام طور پر یہ چر چار ہتا تھا کہ آپ کو زیادہ پیارا کون ہے۔بعض لوگ کہتے تھے کہ بڑے مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض چھوٹے مولوی صاحب یعنی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا نام لیتے تھے۔ہم اس پارٹی میں تھے جو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو زیادہ محبوب سمجھتی تھی۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ دو پہر کے قریب کا وقت تھا۔کیا موقع تھا؟ یہ یاد نہیں۔(آپ فرماتے ہیں) پہلے بھی کبھی شاید یہ واقعہ بیان کر چکا ہوں اور ممکن ہے اس وقت موقع بیان کیا ہومگر اس وقت یاد نہیں ہے۔(فرماتے ہیں کہ ) میں گھر میں آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھ سے یا حضرت اماں جان جو شاید وہیں تھیں ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہم پر جو احسانات ہیں ان میں سے ایک حکیم صاحب کا وجود ہے۔آپ بالعموم حضرت خلیفہ اول کو حکیم صاحب کہا کرتے تھے کبھی بڑے مولوی صاحب اور کبھی مولوی نور الدین صاحب بھی کہا کرتے تھے۔آپ اس وقت کچھ لکھ رہے تھے اور ( حضرت خلیفہ اول کے بارے میں ) فرمایا کہ ان کی ذات بھی اللہ تعالیٰ کے احسانات میں سے ایک احسان ہے۔اور یہ ہمارا نا شکر اپن ہوگا اگر اس کو تسلیم نہ کریں۔اللہ تعالیٰ نے ہم کو ایک ایسا عالم دیا ہے جو سارا دن درس دیتا ہے۔پھر طب بھی کرتا ہے اور جس کے ذریعہ ہزاروں جانیں بچ جاتی ہیں۔یہ تو پہلے بات ہوئی جو حضرت مصلح موعود کے سامنے ہوئی۔پھر آگے ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ اسی طرح میرے ساتھ چلتے ہیں جس طرح انسان کی نبض چلتی ہے۔پس ایسے شخص کا کوئی حوالہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلے میں پیش کیا جائے۔(اس موقع پر یہ بات آپ نے کہی جب یہ مقابلہ ہورہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے اور حضرت خلیفہ اول نے یہ فرمایا ہے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں باوجود ان ساری تعریفوں کے اگر ایسے شخص کا کوئی حوالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلے میں پیش کیا جائے۔پھر اپنا ذکر فرمایا کہ ) یا مثلاً اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلے پر میرا نام دے دیا جائے تو اس کے معنی سوائے اس کے کیا ہیں کہ ہم کو گالیاں دلوائی جائیں۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر میں حضرت خلیفہ اول کا ایک اعلیٰ مقام ہونے کے باوجود، ان کے الفاظ ان کے بارے میں جو بیان ہوئے اس کے باوجود اگر مقابلہ پہ حوالہ پیش کیا جائے تو آپ نے فرمایا یہ ایسا ہی ہے جیسے گالیاں دلوائی جائیں۔پھر