خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 141

خطبات مسرور جلد 13 141 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015ء کہ جو لوگ عام طور پر عقلی باتوں کی طرف زیادہ راغب ہوں وہ ایسی باتوں کو ، اس طرح کی تاویلیں اور نکتے بہت پسند کرتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قریباً ساری سیر میں اس بات کارڈ کرتے رہے اور فرمایا کہ ہمیں الہام ہوا ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اگر اللہ تعالیٰ نے ایسا سلوک کیا تو کیا بعید ہے ( کہ آگ میں ڈالا ہو )۔کیا طاعون آگ سے کم ہے اور دیکھ لو کیا یہ کم مزہ ہے کہ چاروں طرف طاعون آئی مگر ہمارے مکان کو اللہ تعالیٰ نے اس سے محفوظ رکھا۔پس اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے بچا لیا ہوتو کیا بعید ہے۔ہماری طرف سے مولوی صاحب کو کہہ دو کہ یہ مضمون کاٹ دیں۔چنانچہ جیسا پہلے ذکر ہو چکا ہے انہوں نے کاٹ دیا اور پھر نئے فقرات لکھے۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) معجزات کے بارے میں انبیاء ہی کی رائے صحیح سمجھی جاسکتی ہے کیونکہ وہ اُن کی دیکھی ہوئی باتیں ہوتی ہیں۔جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ آدھ آدھ گھنٹہ باتیں کرتا ہے، سوال کرتا اور جواب پاتا ہے اس کی باتوں تک تو خواص بھی نہیں پہنچ سکتے کجا یہ کہ عوام الناس جنہوں نے کبھی خواب ہی نہیں دیکھا اور اگر دیکھا ہو تو ایک دو سے زیادہ نہیں اور پھر اگر زیادہ بھی دیکھیں تو دل میں تر و درہتا ہے کہ شاید یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نفس کا ہی خیال ہے۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ) مگر جو یہ کہتے ہیں کہ ادھر ہم نے سونے کے لئے تکیے پر سر رکھا اُدھر یہ آواز آنی شروع ہوئی کہ دن میں تمہیں بہت گالیاں لوگوں نے دی ہیں۔یعنی سارا دن تمہیں بہت گالیاں ملی ہیں مگر فکر نہ کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔اور تکیے پر سر رکھنے سے لے کر اٹھنے تک اللہ تعالیٰ اسی طرح تسلی دیتا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ بعض دفعہ ساری ساری رات یہی الہام ہوتا رہتا ہے کہ إِنِّي مَعَ الرَّسُوْلِ أَقْوْمُ۔میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) دوسرے لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ہاں اللہ تعالیٰ کے بزرگ اور نیک لوگ ایک حد تک سمجھ سکتے ہیں مگر اس حد تک نہیں جس حد تک نبی سمجھ سکتا ہے۔نبی نبی ہی ہے۔اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کا کلام ایسے رنگ میں ہوتا ہے جس کی مثال دوسری جگہ نہیں مل سکتی۔( حضرت مصلح موعود اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ ) میرے اپنے الہام اور خواب اس وقت تک ہزار کی تعداد میں پہنچ چکے ہوں گے مگر اس شخص کی (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ) ایک رات کے الہامات کے برابر بھی یہ نہیں ہو سکتے جسے شام سے لے کر صبح تک انّی مَعَ الرَّسُوْلِ أَقْوَمُ کا الہام ہوتا رہا ہے۔