خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 143

خطبات مسرور جلد 13 143 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015 ء آپ نے فرمایا کہ ) خلفاء کی عزت اسی میں ہوتی ہے کہ متبوع کی پیروی کریں۔( یعنی جس کی اتباع کی ہے، جس کی بیعت کی ہے اس کی پیروی کریں۔خلفاء کی عزت اسی طرح قائم رہتی ہے۔) اور اگر عدم علم کی وجہ سے کوئی غلطی ہو جائے ( یعنی خلفاء سے بھی اگر عدم علم کی وجہ سے کوئی غلطی ہو جائے ) تو جسے اس کا علم ہو اسے چاہئے کہ بتائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں فرمایا ہے شاید آپ کو اس کا علم نہ ہو۔خلیفہ کو دوسروں سے زیادہ علم دیا جاتا پھر حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) نقد کا علم ہمیں اللہ تعالیٰ نے دوسروں سے بہت زیادہ دیا ہے۔( یعنی کسی بات کو سمجھنے کا، اس کی گہرائی میں جانے کا، اس کو پر کھنے کا، اچھی طرح چھان پھٹک کرنے کا علم ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتوں کا جو علم ہے۔فرماتے ہیں۔وہ خلفاء کو ہمیں اللہ تعالیٰ نے دوسروں سے بہت زیادہ دیا ہے ) اور مامورین کی باتوں کو سمجھنے کی دوسروں سے زیادہ اہلیت رکھتے ہیں۔پھر اس بات پر غور کر کے ہم دیکھیں گے کہ کیا اس کے معنی وہی ہیں جو لوگ لیتے ہیں اور یقینا نقد کے بعد ہم اس کو حل کر لیں گے ( یعنی اس کو پر کھنے کے بعد ہم حل کر لیں گے ) اور وہ حل ننانوے فیصدی صحیح ہو گا۔لیکن اس کو حل کرنے کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ ہم آپ کے مقابل پر ہوں گے اور آپ کے ارشادات کے مقابلے میں نام لے کر ہماری بات پیش کی جائے۔کوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حوالہ پیش کرے اور آگے سے دوسرا میرا نام لے دے تو اس کے معنے سوائے اس کے کیا ہیں کہ ہتک کرائی جائے۔پس خواہ حضرت خلیفہ اول ہوں یا میں ہوں یا کوئی بعد میں آنے والا خلیفہ، جب یہ بات پیش کر دی جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں فرمایا ہے تو آگے سے یہ کہنا کہ فلاں خلیفہ نے یوں کہا ہے غلطی ہے۔جو اگر عدم علم کی وجہ سے ہے تو سند نہیں ہوسکتی۔(اگر علم نہیں ہے تو اس کی کوئی سند نہیں۔اور اگر علم کی وجہ سے ہے تو گویا خلیفہ کو اس کے ممتبوع کے مقابل پر کھڑا کرنا ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ اگر متبوع کے کسی حوالے کی تشریح خلیفہ نے کی ہے تو یہ کہا جائے کہ آپ اس کے معنی یہ کرتے ہیں لیکن فلاں خلیفہ نے اس کے معنی یہ کئے ہیں۔اس طرح خلیفہ نبی کے مقابل پر کھڑا نہیں ہوتا بلکہ اس شخص کے مقابلے پر کھڑا ہوتا ہے جو نبی کے کلام کی تشریح کر رہا ہے۔( حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ) یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ضروری نہیں کہ خلفاء کو سب باتیں معلوم ہوں۔کیا حضرت ابوبکر اور عمر کو ساری احادیث یاد تھیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی