خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 140 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 140

خطبات مسرور جلد 13 140 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015ء پھر علماء آپ کے خلاف نہیں رہیں گے۔تو اس کو میں نے بڑا سمجھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ جواب دیا کہ جو اللہ نے کہا ہے وہ مانا جائے یا تمہارے علماء کی بات مانی جائے لیکن بہر حال ان کو سمجھ نہیں آتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام 66 ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 211) بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔‘“ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے 1903ء میں جب ایک شخص عبدالغفور نے جو اسلام سے مرتد ہو کر آریہ ہو گیا تھا اور اس نے اپنا نام دھر مپال رکھ لیا تھا۔ترک اسلام نام کی کتاب لکھی تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا جواب لکھا جو ” نور الدین کے نام سے شائع ہوا۔یہ کتاب روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنائی جاتی تھی۔جب دھرم پال کا یہ اعتراض آیا کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ ٹھنڈی ہوئی تھی تو دوسروں کے لئے کیوں نہیں ہوتی اور اس پر حضرت خلیفہ اول کا یہ جواب سنایا گیا کہ اس جگہ نار سے ظاہری آگ مراد نہیں بلکہ مخالفت کی آگ مراد ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس تاویل کی کیا ضرورت ہے۔مجھے بھی خدا تعالیٰ نے ابراہیم کہا ہے۔اگر لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ کس طرح ٹھنڈی ہوئی تو وہ مجھے آگ میں ڈال کر دیکھ لیں کہ آیا میں اس آگ میں سے سلامتی کے ساتھ نکل آتا ہوں یا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی کتاب ”نورالدین میں یہی جواب لکھا اور تحریر فرمایا کہ تم ہمارے امام کو آگ میں ڈال کر دیکھ لو۔یقیناً خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق اسے اس آگ سے اسی طرح محفوظ رکھے گا جس طرح اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو محفوظ رکھا تھا۔(نورالدین صفحہ 146 ) ( تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 614) ایک موقعہ پر آپ نے اس کی مزید تفصیل بھی بیان کی نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے معجزات کا بھی ذکر کیا۔آپ نے فرمایا کہ جس کتاب کا ذکر ہو چکا ہے جب حضرت خلیفہ اول یہ کتاب نورالدین لکھ رہے تھے تو اس میں آپ نے لکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کا جو ذکر ہے اس سے مرا دلٹر ائی کی آگ ہے۔آپ نے خیال کیا کہ آگ میں پڑکر زندہ بچنا تو مشکل ہے اس لئے آگ سے مراد لڑائی کی آگ لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان دنوں بسر اواں کی طرف سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔( حضرت مصلح موعود کہتے ہیں) مجھے یاد ہے (کہ) میں بھی ساتھ تھا۔کسی نے چلتے ہوئے کہا کہ حضور بڑے مولوی صاحب نے بڑا لطیف نکتہ بیان کیا ہے۔(حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں