خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 139

خطبات مسرور جلد 13 139 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 فروری 2015 ء کہ ) آپ جانتے ہیں کہ علماء کسی کی بات نہیں مانا کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر مان لی تو ہمارے لئے موجب ہتک ہو گی۔لوگ کہیں گے یہ بات فلاں کو سوجھی اور انہیں نہ سو بھی۔اس لئے ان سے منوانے کا یہ طریق ہے کہ ان کے منہ سے ہی بات نکلوائی جائے۔( یعنی علماء بات نہیں مانتے۔علماء سے یا مولویوں سے بات منوانے کا طریقہ یہ ہے کہ انہی کے منہ سے بات نکلوائی جائے اور جو طریقہ اُس شخص نے پیش کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملنے آیا تھا یہ تھا کہ ) جب آپ کو وفات مسیح کا مسئلہ معلوم ہوا تھا تو آپ کو چاہئے تھا کہ چیدہ چیدہ علماء کی دعوت کرتے اور ایک میٹنگ کر کے یہ بات ان کے سامنے پیش کرتے کہ عیسائیوں کو حیات مسیح کے عقیدے سے بہت مدد ملتی ہے اور وہ اعتراض کر کے اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ تمہارا نبی فوت ہو گیا اور ہمارے مذہب کا بانی آسمان پر ہے۔اس لئے وہ افضل بلکہ خود خدا ہے۔اس کا کیا جواب دیا جائے۔( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام علماء کو اکٹھا کر کے یہ پوچھیں کہ یہ بات ہے بتاؤ اس کا کیا جواب دیا جائے۔تو وہ شخص کہنے لگا کہ ) اُس وقت علماء یہی کہتے کہ آپ ہی فرمائیے اس کا کیا جواب ہے۔آپ کہتے کہ رائے تو دراصل آپ لوگوں کی ہی صائب ہوسکتی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ تجویز پیش کر رہا ہے کہ آپ یہ کہتے کہ ) فلاں آیت سے حضرت مسیح کی وفات ثابت ہوسکتی ہے۔علماء فوراً کہہ دیتے کہ یہ بات ٹھیک ہے۔بسم اللہ کر کے اعلان کیجئے۔ہم تائید کے لئے تیار ہیں۔پھر اسی طرح یہ مسئلہ پیش ہو جاتا کہ حدیثوں میں مسیح کی دوبارہ آمد کا ذکر ہے مگر جب مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے تو اس کا کیا مطلب سمجھا جائے گا۔اس پر کوئی عالم آپ کے متعلق کہہ دیتا ( کہ ) آپ ہی مسیح ہیں اور تمام علماء نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دینی تھی۔یہ تجویز سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر میرا دعویٰ انسانی چال سے ہوتا تو بیشک ایسا ہی کرتا مگر یہ خدا کے حکم سے تھا۔خدا نے جس طرح سمجھایا اسی طرح میں نے کیا۔تو (حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ) چالیں اور فریب انسانی چالوں کے مقابل پر ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی جماعتیں ان سے ہرگز نہیں ڈرسکتیں۔یہ ہمارا کام نہیں خود خدا تعالیٰ کا کام ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 12 صفحہ 196 - 197 - خطبہ جمعہ فرمودہ 15 نومبر 1929ء) حضرت مسیح موعود کا مقام اور آجکل بھی اسی طرح بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ یوں نہ کیا جائے ، یوں دعویٰ کیا جائے ، نبی نہ مانا جائے صرف مجد د کہا جائے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں۔خود میرے سے بھی یہاں ایک شخص مسلمان رسالے کے انٹرویو لینے آئے تھے۔کہتے ہیں اگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بی نہ مانیں تو کیا فرق پڑتا ہے؟