خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 128
خطبات مسرور جلد 13 128 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء ہوگا۔اور مجھے کچھ پتا ہی نہیں تھا کہ میرے خلاف کیا کچھ ہو رہا ہے۔میں سوائے خدا تعالیٰ کی ذات پر تو گل رکھنے کے اور کچھ بھی نہیں کرتا تھا اور حالات سے ایسانا واقف تھا کہ سمجھتا تھا کہ کوئی اور بچہ ہے جس کا یہ ذکر ہو رہا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ یہ لوگ اس وقت بڑا رسوخ رکھتے تھے اور جماعت پر ان کا خاص طور پر اثر تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام پروپیگنڈے کو بے اثر کیا اور مجھے اس نے فتح اور کامرانی عطا فرمائی۔(ماخوذ از ” الموعود۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 579 تا 581) پھر دو تین کو چار کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ بھی صحیح نہیں کہ تین کو چار کرنے والے کی علامت مجھ پر چسپاں نہیں ہوتی۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی رنگ میں تین کو چار کرنے والا ہوں۔اول اس طرح کہ مجھ سے پہلے مرزا سلطان احمد صاحب، مرز افضل احمد صاحب اور بشیر اول پیدا ہوئے اور چوتھا میں ہوا۔دوسرے اس طرح کہ میرے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین بیٹے ہوئے اور اس طرح میں نے ان تین کو چار کر دیا یعنی مرزا مبارک احمد ، مرزا شریف احمد اور مرزا بشیر احمد اور چوتھا میں۔تیسرے اس طرح بھی میں تین کو چار کرنے والا ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندہ اولاد میں سے ہم صرف تین بھائی یعنی میں، مرزا بشیر احمد صاحب اور مرزا شریف احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان رکھنے کے لحاظ سے آپ کے روحانی بیٹوں میں شامل تھے۔مرزا سلطان احمد صاحب آپ کی روحانی ذریت میں شامل نہیں تھے۔انہیں حضرت خلیفہ اول پر بڑا اعتقاد تھا مگر باوجود اعتقاد کے آپ کے زمانے میں وہ احمدی نہ ہوئے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک رؤیا سے معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ہدایت مقدر کی ہوئی ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور پھر حضرت خلیفہ امسیح الاول کے زمانے میں وہ احمدیت میں داخل نہ ہوئے۔جب میر از مانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ وہ میرے ذریعہ سے احمدیت میں داخل ہو گئے۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بیٹے کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حالات میں میرے ہاتھ پر بیعت کرنے کی توفیق عطا فرمائی حالانکہ وہ میرے بڑے بھائی تھے اور بڑے بھائی کے لئے اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر بیعت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔چنانچہ بیعت کے بعد انہوں نے خود بتایا کہ میں ایک عرصے تک اس وجہ سے بیعت کرنے سے رکتا رہا کہ اگر میں بیعت کرتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کرتا یا حضرت خلیفہ اول کی کرتا جن پر مجھے بڑا اعتقاد تھا۔اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر کس طرح بیعت کرلوں۔مگر کہنے لگے ( یعنی مرزا سلطان احمد صاحب نے کہا کہ آخر میں نے (اپنے دل میں ) کہا کہ یہ پیالہ مجھے پینا ہی پڑے گا۔چنانچہ انہوں نے