خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 127
خطبات مسرور جلد 13 127 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015 ء میری مخالفت ہوئی مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے فتح دی۔غیر مبالعین نے حضرت خلیفہ اول کے زمانے میں یہ کہہ کہہ کر کہ ایک بچہ ہے جس کی خاطر جماعت کو تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے پروپیگنڈہ کیا مگر بالکل بے اثر ثابت ہوا۔میں ان باتوں سے اس وقت اتنا نا واقف تھا کہ ایک دن صبح کی نماز کے وقت میں حضرت اتاں جان کے کمرے میں جو مسجد کے بالکل ساتھ ہے نماز کے انتظار میں ٹہل رہا تھا کہ مسجد میں سے مجھے لوگوں کی اونچی اونچی آوازیں آنی شروع ہوگئیں جیسے کسی بات پر جھگڑ رہے ہوں۔ان میں سے ایک آواز جسے میں نے پہچانا وہ شیخ رحمت اللہ صاحب کی تھی۔میں نے سنا کہ وہ بڑے جوش سے یہ کہ رہے ہیں کہ تقویٰ کرنا چاہئے۔خدا کا خوف اپنے دل میں پیدا کرنا چاہئے۔ایک بچے کو آگے کر کے جماعت کو تباہ کیا جارہا ہے۔ایک بچہ کی خاطر یہ سارا فساد برپا کیا جارہا ہے۔میں اس وقت ان باتوں سے اس قدر نا واقف تھا کہ مجھے ان کی یہ بات سن کر سخت حیرت ہوئی کہ وہ بچہ ہے کون جس کے متعلق یہ الفاظ کہے جارہے ہیں۔چنانچہ میں نے باہر نکل کر غالباً شیخ یعقوب علی صاحب سے پوچھا کہ آج مسجد میں یہ کیسا شور تھا اور شیخ رحمت اللہ صاحب یہ کیا کہ رہے تھے کہ ایک بچے کی خاطر یہ سارا فساد برپا کیا جا رہا ہے۔وہ بچہ ہے کون جس کی طرف شیخ صاحب اشارہ کر رہے تھے۔وہ مجھ سے ہنس کر کہنے لگے کہ وہ بچہ تم ہی ہو اور کون ہے۔گویا میری اور ان کی مثال ایسی تھی جیسی کہتے ہیں کہ ایک نابینا اور بینا دونوں کھانا کھانے بیٹھے۔نابینے نے سمجھا کہ مجھے تو نظر نہیں آتا اور اسے سب کچھ نظر آتا ہے۔لازماًیہ مجھ سے زیادہ کھا رہا ہوگا۔چنانچہ یہ خیال آتے ہی اس نے جلدی جلدی کھانا کھانا شروع کر دیا۔پھر اسے خیال آیا کہ میری یہ حرکت بھی اس نے دیکھ لی ہوگی اور اب یہ بھی جلدی جلدی کھانے لگ گیا ہو گا تو میں کیا کروں۔چنانچہ اس نے دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا۔پھر سمجھا کہ اب یہ بھی اس نے دیکھ لیا ہو گا اور اس نے بھی دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا ہوگا۔میں اب کس طرح زیادہ کھاؤں۔اس خیال کے آنے پر اس نے ایک ہاتھ سے کھانا شروع کیا اور دوسرے ہاتھ سے چاول اپنی جھولی میں ڈالنے شروع کر دیئے۔پھر اسے خیال آیا کہ میری یہ حرکت بھی اس نے دیکھ لی ہوگی اور اس نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیا ہوگا۔یہ خیال آنے پر اس نے تھالی اٹھائی ( جو بڑا ڈش تھا )۔کہنے لگا کہ اب میرا حصہ رہ گیا ہے تم اپنا حصہ لے چکے ہو۔اور جو دوسرا آدمی تھا اس بیچارے کی یہ حالت تھی کہ اس نے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا تھا۔وہ اس نابینا کی حرکت دیکھ دیکھ کر ہی دل میں ہنس رہا تھا کہ یہ کر کیا رہا ہے۔(فرماتے ہیں کہ) یہی میرا اور ان کا حال ہے۔یہ بھی اس نابینا کی طرح ہمیشہ سوچتے رہتے ہیں کہ اب یہ یوں کر رہا ہو گا۔اب یہ اس طرح جماعت کو ورغلانے کی کوشش کر رہا