خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 94
خطبات مسرور جلد 13 94 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء سی منتوں کے بعد انہوں نے حافظ صاحب سے اتنی اجازت لے لی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چک سے جھانک کر زیارت کر لیں۔یا یہ کہ ان کی نظر بچا کر انہوں نے دیکھ لیا۔بہر حال حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں اس وقت مجھے تفصیل یاد نہیں۔وہ اس کمرے کی طرف گئے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے اور چک اٹھا کر جھانکا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹہل رہے ہیں۔اس وقت آپ کی دروازے کی طرف پشت تھی اور بڑی تیزی سے دیوار کی دوسری طرف جا رہے تھے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت تھی جب آپ کتاب، اشتہار یا کوئی مضمون لکھتے تو بسا اوقات ٹہلتے ہوئے لکھتے جاتے اور آہستہ آواز سے اسے ساتھ ساتھ پڑھتے بھی جاتے۔اس وقت بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ئی مضمون لکھ رہے تھے اور بڑی تیزی سے ٹہلتے جا رہے تھے اور ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے تھے۔دیوار کے قریب پہنچ کر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس مڑنے لگے تو مولوی برہان الدین صاحب کہتے ہیں کہ میں وہاں سے بھاگا تا آپ کہیں مجھے دیکھ نہ لیں۔حافظ حامد علی صاحب نے یا کسی اور نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کر لی۔وہ کہنے لگے بس پتا لگ گیا اور پنجابی میں کہنے لگے کہ جیڑا کمرے وچ ایناں تیز تیز چلدا اے اس نے کسی دور جگہ ہی جانا ہے۔یعنی جو کمرے میں اس قدر تیز چل رہا ہے معلوم ہوتا ہے کہ منزل مقصود بہت دور ہے اور اسی وقت آپ کے دل میں یہ بات جم گئی کہ آپ دنیا میں کوئی عظیم الشان کام کر کے رہیں گے۔۱ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں یہ ایک نکتہ ہے مگر اس کو نظر آ سکتا ہے جسے روحانی آنکھیں حاصل ہوں۔وہ اس وقت بغیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کوئی بات کئے چلے گئے۔مگر چونکہ یہ بات دل میں جم چکی تھی اس لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی اور پھر اس قدرا خلاص بخشا کہ انہیں کسی کی مخالفت کی پرواہ ہی نہ رہی۔کاموں میں تیزی پیدا کریں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ تیزی کے ساتھ کام کرنے سے اوقات میں بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔اور پھر آپ نے فرمایا کہ بچوں کو جلدی کام کرنے اور جلدی سوچنے کی عادت ڈالی جائے۔مگر جلدی دیگر مستند تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس وقت ہوشیار پور میں تشریف فرما تھے۔خطبات محمود میں گورداسپور لکھا ہوا ہے جو کہ ہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔خطبات محمود جلد 2 ص 383 میں یہی واقعہ بیان ہوا ہے وہاں ہوشیار پور ہی لکھا ہوا ہے۔مرتب سید مبشر احمد ایاز