خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 95
خطبات مسرور جلد 13 95 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء سے مراد جلد بازی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر تیزی سے کام کرنا ہے۔جلد باز شیطان ہے۔لیکن سوچ سمجھ کر جلدی کام کرنے والا خدا تعالیٰ کا سپاہی ہے۔یہ ستی بہت سوں میں پیدا ہوتی ہے کہ آرام کرلیں ، بعد میں کام کر لیں گے تو پھر ہمیشہ کام لیٹ ہوتا چلا جاتا ہے۔پس صرف بچوں کی بات نہیں ہے۔بڑوں اور عہدیداروں کو بھی اپنے کاموں میں تیزی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اس مسیح کے ماننے والے ہیں جنہوں نے وقت کو بڑی قدر کرتے ہوئے استعمال کیا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے الہاماً بھی فرمایا کہ ان کا وقت ضائع نہیں کیا جاتا۔پس ہمیں اس طرف توجہ رکھنی چاہئے۔پھر حضرت مسیح موعود کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے دیکھا ہے کہ آپ دن بھر گھر کے اندر کام کرتے لیکن روزانہ ایک دفعہ سیر کے لئے ضرور جاتے۔(تحریر، تقریر، ملاقاتیں یہ سارے کام ہوتے لیکن سیر کے لئے ضرور جاتے۔اور چوہتر پچہتر برس کی عمر کے باوجود سیر پر اس قدر با قاعدگی رکھتے۔( اب آپ نے عمر یہاں اندازاً بیان فرمائی ہے۔اس میں بحث کی ضرورت نہیں ہے۔بعض لوگوں کو عادت پڑ جاتی ہے کہ یہاں حوالہسن یا تو پھر بحث شروع ہو جائے گی یہ تہتر سال تھی یا چوہتر سال تھی یا پچہتر سال تھی انداز احضرت مصلح موعود بیان فرما رہے ہیں تو بہر حال فرماتے ہیں کہ اتنی عمر کے باوجود سیر پر اس قدر با قاعدگی رکھتے ) کہ آج وہ ہم سے نہیں ہو سکتی۔ہم بعض دفعہ سیر پر جانے سے رہ جاتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام ضرور سیر کے لئے تشریف لے جاتے۔(آپ نے فرمایا) کھلی ہوا کے اندر چلنا پھرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا دماغ کے لئے مفید ہوتا ہے اور جب تحریک جدید کے بورڈر ، ( بورڈ رز کو یہ نصیحت فرمارہے ہیں) کھلی ہوا میں رہ کر مشقت کا کام کریں گے تو جہاں ان کی صحت اچھی رہے گی وہاں ان کا دماغ بھی ترقی کرے گا اور وہ دنیا کے لئے مفید وجود بن جائیں گے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 16 صفحہ 836 تا 839) پس آجکل کھلی فضا میں کھیلنے کی طرف بھی بچوں اور نو جوانوں کو خاص طور پر توجہ دینی چاہئے اور توجہ دلانے کی ضرورت بھی ہے اور جامعات کے طلباء کے لئے تو خاص طور پر کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ روزانہ باہر کھیلنالازمی قرار دیا جانا چاہئے۔آجکل ٹی وی اور اس سے متعلقہ کھیلوں نے جو باہر کی ورزشیں ہیں ان کو بالکل بند کر دیا ہے۔اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو بہر حال سیر اور کھیلیں ہونی چاہئیں۔اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ موت سے ڈرنے والوں کو دشمن ڈراتا ہے، آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس واقعہ کو جو مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کا ہے اُسے اس رنگ میں