خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 90 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 90

خطبات مسرور جلد 13 90 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء حتی کہ افسران ضلع کو انتظام کے لئے خاص اہتمام کرنا پڑا اور غلام حیدر صاحب تحصیلدار اس اسپیشل ڈیوٹی پر لگائے گئے۔آپ حضرت صاحب کے ساتھ نہایت مشکل سے راستہ کراتے ہوئے گاڑی کو لے گئے کیونکہ شہر تک برابر ہجوم خلائق کے سب راستہ نہ ملتا تھا۔اہل شہر کے علاوہ ہزاروں آدمی دیہات سے بھی آپ کی زیارت کے لئے آئے تھے۔قریباً ایک ہزار آدمی نے اس جگہ بیعت کی اور جب آپ عدالت میں حاضر ہونے کے لئے گئے تو اس قدر مخلوق کا رروائی مقدمہ سننے کے لئے موجود تھی کہ عدالت کو انتظام کرنا مشکل ہو گیا۔دور میدان تک لوگ پھیلے ہوئے تھے۔(بہر حال ) پہلی پیشی میں آپ بری کئے گئے اور مع الخیر واپس تشریف لے آئے۔(ماخوذ از سیرت مسیح موعود۔انوار العلوم جلد 3 صفحہ 366) بہر حال اس کے بعد جس طرح کہ آپ نے ذکر کیا تعداد بھی بڑھنی شروع ہو گئی۔1903 ء سے آپ کی ترقی حیرت انگیز طریق سے شروع ہو گئی اور بعض دفعہ ایک ایک دن میں پانچ پانچ سو آدمی بیعت کے خطوط لکھتے تھے اور آپ کے پیرو اپنی تعداد میں ہزاروں لاکھوں تک پہنچ گئے۔ہر قسم کے لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور یہ سلسلہ بڑے زور سے پھیلنا شروع ہو گیا اور آپ کی زندگی میں ہی یہ پنجاب سے نکل کر دوسرے صوبوں اور پھر دوسرے ملکوں میں بھی پھیلنا شروع ہو گیا۔سیرت مسیح موعود۔انوار العلوم جلد 20 صفحہ 367-366) اللہ تعالی گستاخی کی سزا کس طرح دیتا ہے۔ایک تو مجسٹریٹ کا واقعہ سنا۔ایک اور واقعہ آپ بیان فرماتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ لکھنو گئے وہاں ایک سرحدی مولوی عبد الکریم تھا جو ہماری جماعت کا شدید مخالف تھا۔اس نے ہمارے آنے کے بعد ایک تقریر کی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک واقعہ کو اس نے نہایت تحقیر کے طور پر بیان کیا۔وہ واقعہ یہ تھا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ السلام دتی گئے۔وہاں ہمارے ایک رشتے کے ماموں مرزا حیرت دہلوی تھے۔انہیں ایک دن شرارت سوجھی اور وہ جعلی انسپکٹر پولیس بن کر آگئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ڈرانے کے لئے کہنے لگے کہ میں انسپکٹر پولیس ہوں اور مجھے حکومت کی طرف سے اس لئے بھیجا گیا ہے کہ میں آپ کو نوٹس دوں کہ آپ یہاں سے وراً چلے جائیں ورنہ آپ کو نقصان ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو اس کی طرف توجہ نہ دی مگر بعض دوستوں نے تحقیق کرنی چاہی کہ یہ کون شخص ہے تو وہ وہاں سے بھاگ گئے۔اس واقعہ کو مولوی عبدالکریم سرحدی نے جو غیر احمدی مولوی تھا اس رنگ میں بیان کیا کہ دیکھو وہ خدا کا نبی بنا پھرتا ہے مگر وہ