خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 89 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 89

خطبات مسرور جلد 13 89 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء کہ ایک دفعہ رستم کے گھر چور آ گیا۔رستم بیشک بہت بہادر تھا مگر اس کی شہرت فنونِ جنگ میں تو تھی۔وہ جنگ کرنے میں تو ماہر تھا۔تلوار چلانی خوب جانتا تھا لیکن ضروری نہیں ہے کہ جو جنگ کا ماہر ہو وہ گشتی کرنے میں بھی ماہر ہو۔بہر حال چور آ گیا اس نے چور کو پکڑنے کی کوشش کی۔چور کشتی لڑنا جانتا تھا۔اس نے رستم کو نیچے گرا دیا۔جب رستم نے دیکھا کہ اب تو میں مارا جاؤں گا تو اس نے کہا آ گیا رستم۔چور نے جب یہ آواز سنی تو فوراً اسے چھوڑ کر بھاگا۔غرض چور رستم کے ساتھ تو ڑ تا رہا بلکہ اسے نیچے گرا لیا مگر رستم کے نام سے ڈر کر بھاگا۔اس حوالے سے آپ نے یہ بھی نصیحت فرمائی کہ بعض دفعہ بعض لوگ ایسی افواہیں پھیلا دیتے ہیں جس سے لوگوں کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اگر کسی آدمی کے گھر میں آگ لگی ہو تو ٹھیک ہے وہ بجھانے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس پر اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا یہ خبرسن کر ہوتا ہے کہ اس کے گھر کو آگ لگ گئی اور وہ وہاں موجود نہیں تھا۔(ماخوذ از بعض اہم اور ضروری امور۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 277) پھر آپ نے فرمایا کہ کسی جگہ بموں کا پڑنا اتنا خطرناک نہیں ہوتا جتنا یہ شور پڑ جانا کہ بم پڑ رہے ہیں۔تو غلط افواہیں جو ہیں بعض دفعہ بزدلی پیدا کر دیتی ہیں۔پس اپنی بہادری اور جرات کو قائم کرنے کے لئے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ غلط افواہوں کو پھیلنے سے روکا جائے اور اس کا مقابلہ کیا جائے۔(ماخوذ از بعض اہم اور ضروری امور۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 276) رستم کو چور نے قابو کر لیا لیکن اس کے نام کا خوف تھا تو اس نام سے دوڑ گیا۔اسی طرح بعض دفعہ افواہیں جو ہیں غلط رنگ میں ماحول کو خوفزدہ کر دیتی ہیں اس لئے ہمیشہ افواہوں سے بھی بچنا چاہئے اور ایسے حالات میں جرأت کا مظاہرہ بھی کرنا چاہئے۔یہ جو مقدمہ کرم دین تھا۔اس کے بارے میں بھی فرماتے ہیں۔1902ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود پر ایک شخص کرم دین نے ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ کیا اور جہلم کے مقام پر عدالت میں حاضر ہونے کے لئے آپ کے نام سمن جاری ہوا۔چنانچہ آپ جنوری 1903ء میں وہاں تشریف لے گئے۔یہ سفر آپ کی کامیابی کے شروع ہونے کا پہلا نشان تھا کہ گویا آپ ایک فوجداری مقدمے کی جوابدہی کے لئے جا رہے تھے لیکن پھر بھی لوگوں کے ہجوم کا یہ حال تھا کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکتا۔جس وقت آپ جہلم کے سٹیشن پر اترے ہیں اس وقت وہاں اس قدر نبوہ کثیر تھا کہ پلیٹ فارم پر کھڑے ہونے کی جگہ نہ رہی بلکہ سٹیشن کے باہر بھی دو رویہ سڑکوں پر لوگوں کی اتنی بھیڑ تھی کہ گاڑی کا گزرنا مشکل ہو گیا تھا۔