خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 87

خطبات مسرور جلد 13 87 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء کہ دشمن ہمیں تباہ نہ کر دے۔اور انہوں نے کہا یا رسول ما تم اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں۔کیا اب بھی یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ کوئی ہمیں تباہ کر سکے گا۔یہ کیا شاندار ایمان تھا کہ وہ سات سو ہوتے ہوئے یہ خیال تک بھی نہیں کر سکتے تھے کہ دشمن انہیں تباہ کر سکے گا۔(آپ نے واقعہ کو بیان کر کے فرمایا کہ ) ایمان کی طاقت بہت بڑی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ آپ گورداسپور میں تھے۔میں ( یعنی حضرت مصلح موعود ) وہاں تو تھا لیکن اس مجلس میں نہ تھا جس میں یہ واقعہ ہوا۔مجھے ایک دوست نے جو اس مجلس میں تھے سنایا کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور بعض دوسرے احمدی بہت گھبرائے ہوئے آئے اور کہا کہ فلاں مجسٹریٹ جس کے پاس مقدمہ ہے لاہور گیا تھا۔آریوں نے اس پر بہت زور دیا کہ مرزا صاحب ہمارے مذہب کے سخت مخالف ہیں ان کو ضرور سزا دے دو خواہ ایک ہی دن کی کیوں نہ ہو، یہ تمہاری قومی خدمت ہوگی اور وہ ان سے وعدہ کر کے آیا ہے کہ میں ضرور سزا دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بات سنی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔یہ سن کر آپ کہنی کے بل ایک پہلو پر ہو گئے اور فرمایا خواجہ صاحب آپ کیسی باتیں کرتے ہیں۔کیا کوئی خدا تعالیٰ کے شیر پر بھی ہاتھ ڈال سکتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس مجسٹریٹ کو یہ سزا دی کہ پہلے تو اس کا گورداسپور سے تبادلہ ہو گیا۔پھر اس کا تنزل ہو گیا۔یعنی وہ ای اے سی سے منصف بنادیا گیا اور فیصلہ دوسرے مجسٹریٹ نے آ کر کیا۔تو ایمان کی طاقت بڑی زبردست ہوتی ہے اور کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔پس جماعت میں نئے لوگوں کے شامل ہونے کا اس صورت میں فائدہ ہوسکتا ہے کہ شامل ہونے والوں کے اندر ایمان اور اخلاص ہو۔صرف تعداد میں اضافہ کوئی خوشی کی بات نہیں۔اگر کسی کے گھر میں دس سیر دودھ ہو تو اس میں دس سیر پانی ملا کر وہ خوش نہیں ہوسکتا کہ اب اس کا دودھ میں سیر ہو گیا ہے۔کوئی خوشی کی بات نہیں۔خوشی کی بات یہی ہے کہ دودھ ہی بڑھایا جائے اور دودھ ڈال کے دودھ بڑھانے میں ہی فائدہ ہے۔“ ( بعض اہم اور ضروری امور۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 293-294) پس چاہے وہ نئے ہیں یا پرانے ہمیں اپنے ایمانوں میں ترقی کرنے کی طرف کوشش کرنی چاہئے۔اگر وہ سات سو کا ایمان ایسا تھا کہ ان کا خیال تھا کہ دنیا کا کوئی (دشمن) ہمیں شکست نہیں دے سکتا اور دنیا نے دیکھا کہ نہیں دی۔اسی مقدمے کے بارے میں ایک جگہ آپ مزید فرماتے ہیں کہ خواجہ کمال الدین صاحب کی یہ عادت تھی کہ وہ بہت لمبی بات کرتے تھے۔انہوں نے کہا حضور ! مجسٹریٹ ضرور قید کر دے گا اور سزا دے