خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 88
خطبات مسرور جلد 13 88 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء گا۔بہتر ہے کہ فریق ثانی سے صلح کر لی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہنیوں پر سہارا لے کر بیٹھ کر فرمایا۔خواجہ صاحب خدا تعالیٰ کے شیر پر ہاتھ ڈالنا کوئی آسان بات نہیں۔میں خدا تعالیٰ کا شیر ہوں۔وہ مجھ پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔دو مجسٹریٹوں میں سے جو اس مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لئے مقرر تھے ایک کا لڑکا پاگل ہو گیا۔اس کی بیوی نے اسے لکھا ( گو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا مامور تو نہیں مانتی تھی لیکن اس نے لکھا ) کہ تم نے ایک مسلمان فقیر کی ہتک کی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایک لڑکا پاگل ہو گیا ہے۔اب دوسرے کے لئے ہشیار ہو جاؤ۔وہ مجسٹریٹ چونکہ پڑھا لکھا تھا اس نے کہا کیا جاہلانہ باتیں میری بیوی کر رہی ہے۔اسے ایسی باتوں پر یقین نہیں ہوتا تھا۔اس نے اس طرف کوئی توجہ نہیں کی تو نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا دوسر الر کا دریا میں ڈوب کر مر گیا۔وہ دریائے راوی پر گیا تھا وہاں نہا رہا تھا کہ مگر مچھ نے اس کی ٹانگ پکڑ لی۔اس طرح وہ بھی ختم ہو گیا۔اس مجسٹریٹ کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تنگ کرنے کی انتہا یہ تھی ، اس قدر تنگ کیا کرتا تھا کہ مقدمے کے دوران سارا وقت آپ کو کھڑا رکھتا۔اگر پانی کی ضرورت محسوس ہوتی تو پانی پینے کی اجازت نہ دیتا۔ایک دفعہ خواجہ صاحب نے پانی پینے کی اجازت بھی مانگی مگر اس نے اجازت نہ دی۔(ماخوذ از خطبات محمود۔جلد 1 صفحہ 428-429) ایک دوسرا مجسٹریٹ بھی تھا جو اس کے بعد گیا، وہ بھی معطل ہو گیا جیسا کہ ذکر آیا ہے۔بہر حال یہ دونوں لوگ جو تھے وہ بڑے سخت ظلم پر آمادہ تھے اور پھر انہوں نے اپنا انجام بھی دیکھا۔اس مجسٹریٹ کے انجام کی حالت بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں دہلی جا رہا تھا کہ وہ لدھیانہ کے اسٹیشن پر مجھے ملا۔وہ مجسٹریٹ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ یہ سلوک کیا تھالدھیانے کے اسٹیشن پر حضرت مصلح موعود کو ملا اور بڑے الحاج سے بڑے درد سے ” کہنے لگا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے صبر کی توفیق دے۔مجھ سے بڑی بڑی غلطیاں ہوئی ہیں اور میری حالت ایسی ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ میں کہیں پاگل نہ ہو جاؤں۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ یہ آیات بینات ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے انبیاء کی سچائی ظاہر کرتارہتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 359-360) حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے