خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 134

خطبات مسرور جلد 13 134 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015 ء 1952ء میں شاہد پاس کر لیا۔اس کے بعد دعوت الی اللہ کے سلسلے میں آپ ربوہ سے پہلی مرتبہ سیرالیون مغربی افریقہ تشریف لے گئے۔23 اکتوبر 1952ء کو آپ کراچی سے بذریعہ بحری جہاز لندن کے لئے روانہ ہوئے۔یہاں ایک ماہ قیام کے بعد دسمبر میں بحری جہاز کے ذریعہ سے سیرالیون پہنچے۔وہاں چارسال فریضہ دعوت الی اللہ ادا کرنے کے بعد 19 اکتوبر 1956ء کو واپس پاکستان پہنچے۔تین سال مرکز میں مختلف فرائض ادا کرتے رہے۔دسمبر 1959ء کو دوبارہ سیرالیون کے امیر اور مشنری انچارج بنا کر بھیجے گئے۔1962 ء تک یہ خدمات بجالاتے رہے۔پھر 15 جنوری 1966 ء کوا کرا ( Accra) گھانا پہنچے اور سالٹ پانڈ میں تقریباً دو سال تک پرنسپل احمد یہ مشنری ٹریننگ کالج کے فرائض انجام دیئے۔جولائی 1968ء کو تیسری مرتبہ سیرالیون میں متعین ہوئے اور 24 رمئی 1972 ء تک امیر اور مشنری انچارج کے فرائض ادا کرتے رہے۔31 جولائی 1973ء کو امریکہ تشریف لے گئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار سال تک امریکہ میں خدمات کی توفیق عطا فرمائی۔سیرالیون میں جب آپ امیر تھے تو وہاں اس زمانے میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا افریقہ کا پہلا دورہ ہوا تھا۔آپ اس وقت وہیں تھے۔پاکستان میں متعد د شعبہ جات میں خدمات بجالاتے رہے۔بہت منکسر المزاج، بے نفس، بے ریا محنتی اور خاموش خدمتگار تھے۔طبیعت میں سادگی تھی۔گہرا علم اور تحریر کا ذوق تھا۔اپنے علم اور تجربات و مشاہدات کے ذریعے روز نامہ الفضل کے ذریعہ احباب جماعت کو مستفید کرتے رہتے۔آپ کے مضامین وقتا فوقتا الفضل کی زینت بنتے رہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے جب مغربی افریقہ کا دورہ کیا تو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے بعض مبلغین کے متعلق فرمایا کہ یہ مقام نعیم پر فائز ہیں اور ان میں سے ایک نام آپ کا بھی لیا۔آپ کی شادی محترم خلیل احمد صاحب آف گولبازار کی بیٹی امتہ المجید صاحبہ سے ہوئی جنہوں نے اپنے شوہر کا ساتھ وقف کی روح کے ساتھ نبھایا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازاجو صاحب اولاد ہیں۔ایک بیٹی مبلغ سلسلہ مقصود احمد قمر صاحب کے ساتھ بیاہی گئی ہیں اور آپ کے ایک بیٹے سعید خالد صاحب امریکہ میں مربی سلسلہ ہیں۔سعید خالد صاحب لکھتے ہیں کہ خاکسار کے والد بزرگوار فدائی خادم سلسلہ منکسر المزاج، عابد و زاہد اور متوکل وجود تھے۔کہتے ہیں جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے آپ کی سیرت کے دو پہلو نمایاں مشاہدہ کئے ہیں۔اول عبادت میں شغف یعنی حقوق اللہ کی ادائیگی اور دوم دین کی خدمت اور سلسلہ و نظام