خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 135
خطبات مسرور جلد 13 135 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015 ء جماعت کے ساتھ اخلاص و وفا۔نماز ہر حال میں مسجد جا کر ادا کرتے تھے۔زندگی کے آخری سالوں میں گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ سے مسجد میں چل کر یا سائیکل پر نہیں جاسکتے تھے تو خاکسار کی یہ ڈیوٹی تھی کہ ابا جان کو گاڑی پر مسجد نصرت جہاں لے کر جاتا۔اگر کسی کام سے لیٹ ہو جاتا تو ناراض ہوتے کہ میری نماز ضائع ہو گئی۔فرض نماز کی طرح نماز تہجد کا بھی ہمیشہ التزام رہا۔اس میں بھی ناغہ نہ کرتے تھے۔کبھی سفر سے تھکے ہوئے پہنچے تو تب بھی نماز تہجد کبھی ضائع نہیں کی اور کہتے ہیں کہ ہنڈیا ابلنے والی کیفیت میں نے ان کی نمازوں میں یعنی تہجد کی نمازوں میں مشاہدہ کی ہے۔اپنی اولاد کی نمازوں کی بھی فکر رہتی تھی اور اولاد کے ساتھ اگر کبھی سختی رکھی تو وہ نماز با جماعت کی ادائیگی کے لئے ہی سختی تھی۔ہمارے مبلغ سعید خالد صاحب جو ہیں یہ لکھتے ہیں کہ 2010ء میں ان کا تقر را مریکہ میں ہوا تو کیونکہ اپنے والد کی خدمت کیا کرتے تھے تو کہا کہ مجھے فکر ہے میں خلیفہ وقت کو عذر پیش کر دیتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بالکل نہیں کرنا۔تم وقف زندگی ہو فو را جاؤ۔پھر یہ کہتے ہیں کہ خلافت کے ساتھ والہانہ عشق تھا۔خطبات امام میں بیان شدہ ایک ایک ہدایت پر عمل کرنے کی کوشش کرتے اور ہمیں بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔بڑے متوکل تھے۔کہتے ہیں ایک دفعہ میرے بڑے بھائی امریکہ سے آئے تو ان کو معلوم ہوا کہ گھر کی کوئی ضرورت رقم نہ ہونے کی وجہ سے پوری نہ ہوسکی۔بھائی نے ابا جان سے کہا کہ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا تو آپ نے بھائی کو پاس بٹھایا اور فرمایا کہ اگر میں نے پیسے مانگنے ہی ہیں تو کیوں نہ اپنے خدا سے مانگوں۔اس لئے تم سے پیسے نہیں مانگوں گا۔تم اپنی توفیق کے مطابق جو خدمت کرنا چاہتے ہو کر و۔ان کے ایک بیٹے امریکہ میں انجنیئر ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے لاہور سے انجنیئر نگ کی اور امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں ایڈمشن (admission) کے لئے اپلائی کیا۔ایڈمشن ہونے پر سٹڈی ویزہ کے لئے اپلائی کیا مگر اس میں کچھ مشکلات تھیں۔امریکہ میں کلاسز شروع ہونے والی تھیں۔پریشانی بھی تھی۔والد صاحب افریقہ میں تھے۔دعا کے لئے آپ کو لکھا کہ یہ بات ہے۔ابھی لاہور میں ہی تھا کہ ایک روز صبح اٹھا تو ذہن میں آیا کہ امیریکن قونصلیٹ جانا چاہئے۔میں وہاں چلا گیا۔امریکن قونصلیٹ نے کہا کہ ابھی تو تم نے ٹیسٹ پاس نہیں کیا تو یہاں کیسے آگئے ہو۔میں نے ساری تفصیل بتائی۔ایڈمشن کا بتایا کہ کلاسیں شروع ہونے والی ہیں۔اس کو کہا کہ اگر میرا معیار نہ ہوتا تو مجھے یو نیورسٹی ایڈمشن نہ دیتی۔اس پر امریکن قونصلیٹ نے کہا کہ بیٹھو اور آدھے گھنٹے کے بعد پھر ویزہ دے دیا۔جب میں ربوہ واپس آیا