خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 133
خطبات مسرور جلد 13 133 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015ء یہ محسوس نہ کرتی ہو کہ احمدیت ایک بڑھتا ہوا سیلاب ہے جو ان کے ملکوں کی طرف آ رہا ہے۔حکومتیں اس کے اثر کو محسوس کر رہی ہیں بلکہ بعض حکومتیں اس کو دبانے کی بھی کوشش کرتی ہیں۔(اور یہ صرف اُس زمانے کی بات نہیں آجکل بھی یہ باتیں سامنے آ رہی ہیں)۔چنانچہ روس میں جب ہمارا مبلغ گیا تو اسے مارا بھی گیا، پیٹا بھی گیا اور ایک لمبے عرصے تک قید رکھا گیا۔لیکن چونکہ خدا کا وعدہ تھا کہ وہ اس سلسلے کو پھیلائے گا اور میرے ذریعے سے اس کو دنیا کے کناروں تک شہرت دے گا اس لئے اس نے اپنے فضل و کرم سے ان تمام مقامات میں احمدیت کو پہنچا یا بلکہ بعض مقامات پر بڑی بڑی جماعتیں قائم کردیں۔(ماخوذ از دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 155-156) پیشگوئی کے تو مختلف حصے ہیں جو آپ میں بڑی شان سے پورے ہوئے اور کئی مرتبہ پورے ہوئے۔مختلف جگہوں پر پورے ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کو ظاہر کرتے رہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی شان کو بڑھاتے رہے۔اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی رحمت ہمیشہ برساتا رہے اور ہمیں بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم مولا نا محمد صدیق صاحب شاہد گورداسپوری ( مبلغ سلسلہ کا ہے۔یہ مکرم میاں کرم دین صاحب کے بیٹے تھے اور مورخہ 15 فروری 2015ء کو 87 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔آپ کو مختلف ممالک میں اور مرکز سلسلہ میں مختلف حیثیتوں سے ساٹھ سال تک خدمات سلسلہ بجالانے کی توفیق ملی۔آپ کی ساری زندگی خدمات دینیہ مسلسل جد و جہد ، دعوت الی اللہ اور اطاعت خلافت سے معمور ہے۔جب تک صحت نے اجازت دی آپ دینی امور میں ہمہ تن مصروف رہے۔کچھ عرصہ قبل آپ کو فالج ہوا جس کی وجہ سے آپ صاحب فراش ہو گئے تھے۔31 اکتوبر 1928ء کو لودھی منگل تحصیل بٹالہ میں آپ پیدا ہوئے۔ان کے والد میاں کرم دین صاحب کو اللہ تعالیٰ نے 1914ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الاول کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی توفیق عطا فرمائی تھی۔مولانا صدیق صاحب نے پرائمری پاس کرنے کے بعد 1940ء میں قادیان آ کر مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لے لیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہشیار طلباء میں سے تھے۔اول دوم پوزیشن آیا کرتی تھی۔1947ء میں مدرسہ احمدیہ پاس کر کے جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔1949ء میں جامعہ احمدیہ کے دوران ہی مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔1950ء میں جامعتہ المبشرین کی پہلی مربیان کلاس میں داخلہ لیا اور