خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 532 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 532

خطبات مسرور جلد 12 532 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء میں گئے ہیں تو وہاں انہوں نے اپنے ایمبیسیڈر کے سامنے اس طرح اظہار کیا کہ میں نے کئی ملکی اور غیر ملکی بڑی بڑی کانفرنسز میں شرکت کی ہے لیکن جو حسن انتظام یہاں جلسے میں نظر آیا وہ کہیں اور نہیں دیکھا۔پھر بین کے وزیر داخلہ فرانس ہو سو ( Francis Houessou) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔میرے پاس الفاظ نہیں جن سے میں جلسے کے انتظامات کی تعریف کرسکوں۔بہت عمدہ اور منظم جلسہ تھا۔میں نے جماعت کے لوگوں میں رضا کارانہ طور پر دوسروں کی خدمت کرنے کا غیر معمولی جذبہ دیکھا ہے۔یہ جذبہ ہر احمدی کی روح کی غذا بن چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج جماعت احمدیہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔کہتے ہیں میں نے بچوں بڑوں کو حتی کہ بوڑھوں کو دیکھا کہ انہیں اپنے کھانے پینے کی فکر نہیں تھی۔اگر فکر تھی تو بس ایک چیز کی کہ ہمارا جلسہ کامیاب ہو۔اپنے مقاصد کے حصول میں اتنی محنت کرنے والے لوگ میں نے کبھی نہیں دیکھے۔کہتے ہیں میں نے دنیا دیکھی ہے۔امریکہ جیسے سپر پاور کے انتظامات بھی دیکھے ہیں مگر بڑی بڑی طاقتوں کو بھی اس طرح کے منظم اور پر امن انتظام کرتے نہیں دیکھا۔یہاں تو بالکل چھوٹی عمر کے بچے بھی رضا کارانہ ڈیوٹیاں دیتے ہیں اور جو ہدایات انہیں ملتی ہیں بڑے شوق سے ان کی پابندی کرتے ہیں۔پھر کہتے ہیں جماعت کی عالمی طاقت کا راز یہی ہے کہ جماعت کو ایک خلیفہ ملا ہوا ہے۔میں بر ملا اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ آج جماعت احمد یہ ہی ہے جو دنیا میں امن کے قیام کے لئے کام کر رہی ہے۔آج زمین پر صرف جماعت احمد یہ ہی ہے جو بھائی چارے کی تعلیم دیتی ہے،صبر کی تلقین کرتی ہے اور امن کے قیام کی علمبردار ہے۔یوگنڈا کے ڈیفنس منسٹر ڈاکٹر کرسپس چیونگا (Dr۔Crispus Kiyonga) نے جلسے میں شمولیت کی۔کہتے ہیں جلسے کی کیفیت کا نظارہ بیان سے باہر ہے۔باقاعدہ دو دن جلسے کی کارروائی دیکھی اور نمائش بھی دیکھی۔ان کی مجھ سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔سب کچھ دیکھنے کے بعد یہ کہنے لگے کہ اتنا ڈسپلن تو آرمی پیدا کرسکتی ہے۔اس پر اُن کو میں نے کہا تھا کہ آپ کی آرمی بھی نہیں پیدا کر سکتی۔تو کہتے ہیں بڑی صحیح بات کہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں۔اس قسم کا ڈسپلن تو دنیا کی کوئی آرمی بھی نہیں پیدا کر سکتی۔یونان سے آنے والے مہمانوں میں انٹی گونی (Antigoni) اور پانا گی یوتس (Panagiotis)، بہر حال جو بھی ان کا نام ہے شامل تھے۔اس میں پانا گی یوتس (Panagiotis) صاحب کو جماعتی لٹریچر کا گر یک ترجمہ کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔جلسے سے واپس جا کر انہوں نے ایک ای میل بھجوائی جس میں وہ کہتے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں اس قدر پر امن مجمع کو جو