خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 531 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 531

خطبات مسرور جلد 12 531 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 ستمبر 2014ء میں شامل ہونے والا ہر احمدی اور ہر کارکن ایک خاموش مبلغ ہوتا ہے۔تمام غیر مہمان یہ نظام دیکھ کر کہ خاموشی سے سب کام ایک دھارے میں بہتے چلے جارہے ہیں۔کوئی panic نہیں۔کوئی افراتفری نہیں ہے۔کہیں کوئی سختی یا سخت کلامی نظر نہیں آتی بلکہ مسکراتے چہرے نظر آتے ہیں۔چھوٹے بچوں سے لے کر بوڑھے مرد عورتیں خدمت کے جذبات سے سرشار ہوتے ہیں۔اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔یہ چیزیں دیکھ کر غیروں پر جماعت کا بڑا اثر ہوتا ہے۔اور جو احمدی پہلی بار جلسے میں شامل ہوئے ہوتے ہیں ان کے ایمان میں بھی یہ ماحول بے انتہا ترقی کا باعث بنتا ہے بلکہ ہمیشہ شامل ہونے والے بھی نئے سرے سے چارج ہوتے ہیں اور اپنے ایمان وایقان میں ترقی اور اضافہ کر کے یہاں سے جاتے ہیں۔بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو نیک نیتی سے اور بعض عادتا بھی یہ بات کرتے ہیں کہ انہوں نے نقائص تلاش کرنے ہوتے ہیں اور ایسے ناقدین کا بھی اس دفعہ عموماً یہ اظہار رہا ہے کہ کارکنان کی خوش مزاجی کا معیار پہلے سے بہتر تھا۔جلسہ کے مہمانوں کے بھی تاثرات پیش کرتا ہوں۔اس دفعہ کانگو کنشاسا سے سپیکر صوبائی اسمبلی باندوند و بونیفا این تو ابوشیوا (Boniface Ntwa Boshie Wa) صاحب پہلی بار جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے۔موصوف نے تینوں دن جلسہ کی مکمل کارروائی دیکھی۔جلسہ گاہ میں بیٹھ کرسنی۔نمازوں کے دوران بھی جلسہ گاہ میں رہتے۔عالمی بیعت بھی انہوں نے دیکھی۔یہ کہتے ہیں یہاں ہر کوئی ایسے مل رہا ہے جیسے برسوں سے ایک دوسرے کو جانتا ہو۔ہر کوئی سلام کر رہا ہے۔یہی حقیقی محبت ہے۔یہی حقیقی مذہب اور دین ہے۔کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم نے صوبائی سطح پر ایک پروگرام منعقد کرنا تھا جس میں پہلے دن ہی بدانتظامی کی وجہ سے 26 افراد کی موت ہو گئی۔چنانچہ پروگرام کینسل کرنا پڑا۔لیکن میں حیران ہوں کہ جلسے میں ہزاروں افراد کے مجمع میں کوئی چھوٹی سی بدنظمی نہیں ہوئی۔کوئی دھکم پیل اور فساد نہیں ہوا۔کسی کی موت ہونا تو دور کی بات ہے کسی نے اونچی آواز سے بات تک نہیں کی۔چھوٹے بچوں کو ڈیوٹی دیتا دیکھ کر بڑے جذباتی تھے۔کہتے ہیں یہ ننھے بچے پانی یا کوئی اور کھانے کی چیز اس پیار اور محبت سے پیش کرتے ہیں کہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود ان بچوں کو انکار کرنے کا دل نہیں کرتا۔چھوٹی عمر کے بچوں کی عام طور پر یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ چیز خود لینا چاہتے ہیں لیکن جماعت نے ان بچوں کی ایسی تربیت کر دی ہے کہ اس عمر سے ان کو دوسروں کے لئے جذبات قربان کرنے کی عادت پڑ گئی ہے اور انتہائی چھوٹی عمر سے دوسروں کے آرام اور سکون کو اپنے آرام پر ترجیح دینے لگے ہیں۔یقینا یہ بچے بڑے ہو کر دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث نہیں بنیں گے بلکہ دوسروں کی خدمت کرنے والے ہوں گے۔اور جلسے کے بعد جب وہ اپنی ایمبیسی