خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 379 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 379

خطبات مسرور جلد 12 379 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014 ء چلائی ہوئی ہوا ہے۔کسی شخص یا عہد یدار کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس کی محنت کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے۔محنت تو پہلے بھی ہوتی تھی لیکن نتائج نہیں نکلتے تھے۔اب اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ یہ نتائج نکلیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ ہوا بھی چلائی اور ان کے رویے بالکل بدلتے چلے جارہے ہیں۔جرمنی کی ایک پارٹی کے ممبر ہیں مہمت ترن (Mehmet Turan) صاحب کہتے ہیں کہ آپ کے خطاب سے تمام سیاستدان بیحد متاثر ہوئے اور اس کا اظہار ان کے چہروں سے بھی عیاں تھا۔خلیفہ امسیح کی یہ بات بڑی مؤثر اور پر حکمت ہے کہ آپ نے اپنی جماعت کے تمام ممبران کو ملک جرمنی کی ترقی میں حصہ لینے کی طرف توجہ دلائی ہے۔پھر ایک مہمان نے کہا کہ مجھے آج کی تقریب نے حیران کر دیا ہے۔جرمن لوگوں کو چاہئے کہ آپ احمدی لوگوں سے کچھ سیکھیں۔پس ہمیں ، یورپ میں رہنے والوں کو بھی کسی کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔آج دنیا کی رہنمائی کی باگ ڈور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو دی ہے۔پس اس کو سمجھیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش کریں۔اپنے تعلق کو اللہ تعالیٰ سے مضبوط کریں پھر انشاء اللہ تعالیٰ یہ انعامات بھی ضرور ملنے والے ہیں۔مسجد مہدی میونخ کے افتتاح کے موقع پر مہمانوں کے تاثرات یہ ہیں۔ایک جرنلسٹ نے میرے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو امن کا پیغام دیا ہے اس کا اظہار بھی ہو رہا تھا اور سارے ہال پر اس کا گہرا اثر تھا۔ایک خاتون کہتی ہیں کہ خلیفتہ اس نے جب اپنے ایڈریس میں ڈاکٹر مہدی علی صاحب کی شہادت کا ذکر کیا تو میں برداشت نہ کر سکی اور رونے لگی۔پھر خلیفہ اسیح نے جب یہ کہا کہ اس شہادت کے باوجود ہماری خدمت کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی اور ہم یہ خدمت جاری رکھیں گے تو اپنے جذبات پر قابورکھنا میرے لئے بہت مشکل ہو گیا۔ایک خاتون کہتی ہیں۔میں بہت متاثر ہوئی خاص طور پر جو امن کے لئے حل پیش کیا گیا ہے، یعنی دنیا کے سب انسانوں کو چاہئے کہ مذہب وملت سے بالا تر ہو کر ایک دوسرے سے محبت کریں۔نہ یہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی بڑھتی جائے۔یہ تقریب بڑی کامیاب رہی۔پروگرام کے لئے صرف اپنی جماعت کے لوگوں کو نہیں بلایا۔یا سیاستدان ہی نہیں بلائے بلکہ ہمسایوں کو بھی دعوت دی۔یہ بھی بڑی اچھی بات تھی اور اس نے مجھے بڑا متا ثر کیا۔