خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 378 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 378

خطبات مسرور جلد 12 378 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014 ء کے لئے لیا وہ ایک بیوہ کی ملکیت تھی جس نے چالیس سال تک یہ پلاٹ اپنے پاس رکھا۔بعد میں بڑھاپے کی وجہ سے شہر کی انتظامیہ کو فروخت کر دیا۔یہ خاتون تقریب میں موجود تھی اور جب انہوں نے میرا خطاب سا تو کہنے لگی کہ مجھے خوشی ہے کہ جس جگہ کی میں مالک تھی میرے بعد وہاں خدا کی عبادت کی جائے گی اور اس زمین پر اللہ تعالیٰ کا گھر آباد ہوگا اور ہمیشہ قائم رہے گا اور خلیفہ اسیح نے جو کچھ کہا ہے اس سے مجھے بہت اطمینان ہوا کہ واقعی جیسا کہا گیا ہے ویسا ہی ہے۔بلکہ ایک بہت پرانے بوڑھے جرمن کا ایک تبصرہ مجھے یہ بھی ملا کہ میں نے تو مر جانا ہے اور مجھے فکر تھی کہ قوموں میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔اگر جرمنی میں جرمنوں پر ایسی حالت ہوتی ہے تو کیا بنے گا ، اس پر کون لوگ قابض ہو جائیں گے۔لیکن آج جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی باتیں سن کے مجھے یہ یقین ہو گیا ہے کہ جرمنی پر اگر کوئی ایسی صورتحال ہوئی تو یقیناً جماعت احمدیہ کے ہاتھوں ہی جرمنی آئے گا اور بڑے محفوظ ہاتھوں میں ہوگا۔ایک مہمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیفہ کی بات بہت دوستانہ، ذاتی اور براہ راست تھی۔خلیفہ کا پیغام ہمیں پہنچ گیا ہے۔ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہئے ، نفرت نہیں۔اسلام کو کچھ لوگوں کے اعمال کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو بالکل غلط ہے۔لجنہ کی طرف مسجد کا جو پروگرام تھا وہاں ایک خاتون ٹیچر گئیں تو جب بچیاں میرے سے چاکلیٹ لے رہی تھیں تو بعض بچیاں رو کے اپنے لئے دعا کے لئے بھی کہتی تھیں تو کہتی ہیں کہ اتنی چھوٹی عمر سے کسی سے ایسی محبت میں نے کبھی نہیں دیکھی۔میں آج بہت متاثر ہوئی ہوں۔پھر مسٹر جو کم آرنلڈ (Mr Joachim Arnold) ڈسٹرکٹ ایڈ منسٹریٹر کمشنر آف کاؤنٹی نے اپنے ایڈریس میں بہت ساری باتوں میں سے یہ بھی کہا کہ پچیس سال سے اس بات پر گواہ ہوں کہ احمد یہ مسلم جماعت ہمیشہ رواداری کا پاس رکھتی ہے اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔آپ کی مسجد اس بات کی نشانی ہے کہ یہاں مذہبی رواداری ہے اور ایک دوسرے سے رواداری کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ایک مہمان نے کہا کہ میں نے خلیفہ اسیح کی تقریر آدھی اردو میں اور آدھی جرمن میں سنی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ براہ راست خلیفتہ اسی کی آواز سننا چاہتا تھا اور اردوزبان بھی سنا چاہتا تھا۔اور پھر انہوں نے کہا کہ بڑی اچھی تقریر تھی اور مجھے بہت اچھا لگا۔آپ نے اپنی جماعت کو حکم دیا کہ وہ ملک کی ترقی کے لئے کام کریں۔تو لوگوں کے جماعت کو پر کھنے کے، سننے کے اپنے عجیب عجیب انداز ہیں۔یہ سب اللہ تعالیٰ کی