خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 370
خطبات مسرور جلد 12 370 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 جون 2014 ء ان کے عمل ان باتوں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں؟ یا صرف دنیا داروں کی طرح ایک اکٹھ ہوتا ہے، ایک اجتماع ہوتا ہے، ہلہ گلہ اور رونق ہوتی ہے۔جب یہ دیکھتے ہیں کہ جلسے کا ماحول تو ایک عجیب ماحول ہوتا ہے جس کی دنیاوی میلوں اور جلسوں سے مثال نہیں دی جاسکتی تو پھر یہ جلسہ غیر مسلمانوں کے لئے، مہمانوں کے لئے اسلام کی خوبصورت تعلیم بتانے اور اسلام کے بارے میں شکوک وشبہات دور کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔اسی طرح بعض غیر مسلم اور غیر احمدی جنہوں نے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے بارے میں کچھ نہ کچھ معلومات لی ہوتی ہیں جلسے کے ماحول اور پروگراموں کو جب اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور کانوں سے سنتے ہیں تو ان میں سے بعض بیعت پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور بیعت کر کے جاتے ہیں یا اس حد تک متاثر ہو جاتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد ان کے دل احمدیت کی طرف مکمل طور پر مائل ہو جاتے ہیں۔گویا کہ یہ جلسہ جہاں اسلام کے بارے میں نیک اثرات پیدا کرنے والا ہوتا ہے وہاں تبلیغ کا بھی بہت بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔پس جرمنی کا جلسہ بھی یقینا ان باتوں کا ذریعہ بنا۔اس لئے میں پہلے جلسے میں آنے والے مہمانوں کے بعض تاثرات پیش کروں گا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح حیرت انگیز طور پر اپنی تائید و نصرت دکھا رہا ہے۔کیونکہ دل تو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی مائل ہو سکتے ہیں اور پھر صرف جلسہ ہی نہیں بلکہ ہر جماعتی فنکشن جس میں مہمانوں کو بلایا جاتا ہے وہ فنکشن جماعتی تعارف کا بہت بڑا ذریعہ بنتا ہے اور ہر فنکشن ہی اسلام کی خوبصورت تعلیم کو بتانے اور تبلیغ کے میدان کھولنے والا بن جاتا ہے۔جرمنی کے دورے کے دوران مسجدوں کی بنیادیں رکھنے اور مسجدوں کے افتتاح کرنے کا بھی موقع ملا۔اس سے بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم لوگوں پر واضح ہوئی جس پر انہوں نے اظہار بھی کیا کہ یہ اسلام ہماری نظروں کے سامنے پہلے کبھی نہیں لایا گیا۔پھر اخباروں نے جو کور تیج دی اس سے بھی کئی ملینز (millions) تک یہ پیغام پہنچا۔بہر حال سب سے پہلے تو میں جلسے پر آنے والے غیروں کے تاثرات یہاں بیان کرتا ہوں۔جرمنی کے جلسے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف ہمسایہ ممالک کے وفود بھی شامل ہوئے اور اچھی خاصی تعداد میں یہ وفد شامل ہوئے۔جو افراد شامل تھے ان کی تعداد بھی کافی تھی۔فرانس اور سے آنے والے نو مبائعین اور زیر تبلیغ دوستوں کے علاوہ اسٹونیا، کروشیا،لیتھو مینیا، سلوینیا، رومانیہ، ہنگری ، مونٹی نیگرو، بوسنیا اور رشین ممالک، کوسوود، البانیہ، بلغاریہ اور میسیڈونیا سے وفد آئے جن میں بچے بھی تھے ،مردو خواتین ، زیر تبلیغ افراد اور غیر مسلم دوست شامل تھے۔