خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 85

خطبات مسرور جلد 12 85 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 فروری 2014ء ہے وہ گویا ساری دنیا کو قتل کرتا ہے۔ایسا ہی میں کہتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی نہیں کی تو اس نے ساری دنیا کے ساتھ ہمدردی نہیں کی۔زندگی سے اس قدر پیار نہ کرو کہ ایمان ہی جاتا رہے۔حقوق اخوت کو کبھی نہ چھوڑو۔اگر ہم لوگ اس بات کو بھی سمجھ لیں تو بہت سارے ہمارے لڑائی جھگڑے، رنجشیں ، مقدمے سب ختم ہو سکتے ہیں۔فرمایا یا درکھو کہ سارے فضل ایمان کے ساتھ ہیں۔ایمان کو مضبوط کر وہ قطع حقوق معصیت۔جب حقوق کو کاٹو گے ختم کرو گے تو یہ گناہ ہے۔فرمایا : یہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نمونہ بنانا تو۔۔۔۔چاہتا ہے اگر اس کا بھی یہی حال ہوا کہ ان میں اخوت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہوگی۔“ ہے۔66 ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 351 تا 353) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ”ہماری جماعت ( جس سے مخالف بغض رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ جماعت ہلاک اور تباہ ہو جاوے) کو یادرکھنا چاہیے کہ میں اپنے مخالفوں سے باوجود ان کے بغض کے ایک بات میں اتفاق رکھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ یہ جماعت گناہوں سے پاک ہو اور اپنے چال چلن کا عمدہ نمونہ دکھاوے۔وہ قرآن شریف کی تعلیم پر سچی عامل ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں فنا ہو جاوے۔ان میں با ہم کسی قسم کا بغض و کینہ نہ رہے۔وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پوری اور سچی محبت کرنے والی جماعت ہو۔لیکن اگر کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر بھی اس غرض کو پورا نہیں کرتا اور سچی تبدیلی اپنے اعمال سے نہیں دکھاتا وہ یادر کھے کہ دشمنوں کی اس مراد کو پورا کر دے گا۔وہ یقینا ان کے سامنے تباہ ہو جاوے گا۔خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کا رشتہ نہیں اور وہ کسی کی پروا نہیں کرتا۔وہ اولاد جو انبیاء کی اولاد کہلاتی تھی یعنی بنی اسرائیل جن میں کثرت سے نبی اور رسول آئے اور خدا تعالیٰ کے عظیم الشان فضلوں کے وہ وارث اور حقدار ٹھہرائے گئے تھے۔لیکن جب اس کی روحانی حالت بگڑی اور اُس نے راہ مستقیم کو چھوڑ دیا، سرکشی اور فسق و فجور کو اختیار کیا۔نتیجہ کیا ہوا؟ وہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ اللَّهُ وَالْمَسْكَنَةُ (البقرۃ: 62) کی مصداق ہوئی۔خدا تعالیٰ کا غضب ان پر ٹوٹ پڑا۔یہ کس قدر عبرت کا مقام ہے۔بنی اسرائیل کی حالت ہر وقت ایک مفید سبق ہے۔اسی طرح یہ قوم جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے وہ قوم ہے کہ خدا تعالیٰ اس پر بڑے بڑے فضل کرے گا۔لیکن اگر کوئی اس جماعت میں داخل ہو کر خدا تعالیٰ سے سچی محبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل اتباع نہیں کرتا وہ چھوٹا ہو یا بڑا کاٹ ڈالا جائے گا اور خدا تعالیٰ کے غضب کا