خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 84
خطبات مسرور جلد 12 84 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 فروری 2014ء خدا کے عزیزوں میں شامل ہو جاؤ تا کہ کسی وباء کو یا آفت کو تم پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہو سکے، کیونکہ کوئی بات اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر زمین پر ہو نہیں سکتی۔ہر ایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم ادنی باتوں سے اعراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ فرمایا : ” اس بات کو وصیت کے طور پر یا درکھو کہ ہرگز تندی اور سختی سے کام نہ لینا۔“ ہمیشہ نرمی سے سمجھاؤ اور جوش کو ہرگز کام میں نہ لاؤ۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 266 تا 268) آئندہ کے لئے یاد رکھو کہ حقوق اخوت کو ہر گز نہ چھوڑو، ورنہ حقوق اللہ بھی نہ رہیں گے۔“ پھر فرمایا: ” مجھے یہی بتایا گیا ہے کہ اِنَّ اللهَ لا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد: 12) اللہ تعالیٰ کسی حالت میں قوم میں تبدیلی نہ کرے گا جبتک لوگ دلوں کی تبدیلی نہ کریں گے۔ان باتوں کو سن کر یوں تو ہر شخص جواب دینے کو تیار ہو جاتا ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں، استغفار بھی کرتے ہیں، پھر کیوں مصائب اور ابتلا آ جاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو جو سمجھ لے و ہی سعید ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا منشا کچھ اور ہوتا ہے۔سمجھا کچھ اور جاتا ہے اور پھر اپنی عقل اور عمل کے پیمانہ سے اسے ماپا جاتا ہے۔یہ ٹھیک نہیں۔ہر چیز جب اپنے مقررہ وزن سے کم استعمال کی جاوے تو وہ فائدہ نہیں ہوتا جو اس میں رکھا گیا ہے۔مثلاً ایک دوائی جو تو لہ کھانی چاہئے اگر تولہ کی بجائے ایک بوند استعمال کی جاوے تو اس سے کیا فائدہ ہوگا اور اگر روٹی کی بجائے کوئی ایک دانہ کھالے تو کیا وہ سیری کا باعث ہو سکے گا ؟ اور پانی کے پیالے کی بجائے ایک قطرہ سیراب کر سکے گا؟ ہرگز نہیں۔یہی حال اعمال کا ہے۔جب تک وہ اپنے پیمانہ پر نہ ہوں وہ اوپر نہیں جاتے ہیں۔یہ سنت اللہ ہے جس کو ہم بدل نہیں سکتے۔فرمایا : ” بھائی کی ہمدردی کرنا صدقات خیرات کی طرح ہی ہے۔اور یہ حق ، حق العباد کا ہے جو فرض ہے۔جیسے خدا تعالیٰ نے صوم وصلوٰۃ اپنے لیے فرض کیا ہے اسی طرح اس کو بھی فرض ٹھہرایا ہے کہ حقوق العباد کی حفاظت ہو۔“ فرمایا: جو شخص ہمدردی کو چھوڑتا ہے وہ دین کو چھوڑتا ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے :مج قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَاد۔۔۔الآية (المائدة:33)۔یعنی جو شخص کسی نفس کو بلا وجہ قتل کر دیتا