خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 74
خطبات مسرور جلد 12 74 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 فروری 2014ء رہے ہیں کہ الہام کے بارے میں اُن کو کچھ شکوک تھے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ہر چند معقولی طور پر سمجھایا گیا، کچھ اثر مترتب نہ ہوا۔( کوئی اثر نہ ہوا)۔آخر توجہ الی اللہ تک نوبت پہنچی۔( پھر یہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے )۔اور اُن کو قبل از ظهور پیشگوئی بتلایا گیا کہ خدا وند کریم کی حضرت میں دعا کی جائے گی۔کچھ عجب نہیں کہ وہ دعا بپایۂ اجابت پہنچ کر کوئی ایسی پیشگوئی خداوند کریم ظاہر فرما دے جس کو تم چشم خود دیکھ جاؤ۔سو اُس رات اس مطلب کے لئے قادر مطلق کی جناب میں دعا کی گئی۔علی الصباح بنظر کشفی ایک خط دکھلایا گیا کشفی حالت میں ایک خط دکھلایا گیا ) ” جو ایک ص نے ڈاک میں بھیجا ہے۔اس خط پر انگریزی زبان میں لکھا ہوا ہے۔آئی ایم کو رلر ( I am و quarreler )۔اور عربی میں یہ لکھا ہوا ہے۔هَذَا شَاهِد نزان۔اور یہی الہام حکایتاً عن الكاتب القا کیا گیا اور پھر وہ حالت جاتی رہی۔چونکہ یہ خاکسار انگریزی زبان سے کچھ واقفیت نہیں رکھتا، اس جہت ، پہلے علی الصباح میاں نور احمد صاحب کو اس کشف اور الہام کی اطلاع دے کر ، ( یعنی وہی شخص جن کو کچھ شکوک تھے کہ اولیاء اللہ کے الہامات جو ہیں یہ باتیں ہی ہیں، کہتے ہیں اُن کو کشف اور الہام کی اطلاع دے کر ) اور اس آنے والے خط سے مطلع کر کے پھر اسی وقت ایک انگریزی خوان سے اس انگریزی فقرہ کے معنے دریافت کئے گئے تو معلوم ہوا کہ اُس کے یہ معنے ہیں کہ میں جھگڑنے والا ہوں۔سو اس مختصر فقرہ سے یقینا یہ معلوم ہو گیا کہ کسی جھگڑے کے متعلق کوئی خط آنے والا ہے۔اور هَذَا شَاهِدٌ نَزَاغ کہ جو کاتب کی طرف سے دوسرا فقرہ لکھا ہوا دیکھا تھا اُس کے یہ معنے کھلے کہ کاتب خط نے کسی مقدمہ کی شہادت کے بارہ میں وہ خط لکھا ہے۔اُس دن حافظ نور احمد صاحب بباعث بارش باران امرت سر جانے سے روکے گئے“۔(انہوں نے جانا تھا، سفر کرنا تھا لیکن بارش کی وجہ سے نہ جا سکے ) اور درحقیقت ایک سماوی سبب سے اُن کا روکا جانا بھی قبولیت دعا کی ایک خبر تھی تا وہ جیسا کہ اُن کے لئے خدائے تعالیٰ سے درخواست کی گئی تھی ، پیشگوئی کے ظہور کو بچشم خود دیکھ لیں۔غرض اس تمام پیشگوئی کا مضمون اُن کو سنا دیا گیا۔شام کو اُن کے رو برو پادری رجب علی صاحب مہتمم و مالک مطبع سفیر ہند کا ایک خط رجسٹری شدہ امرتسر سے آیا جس سے معلوم ہوا کہ پادری صاحب نے اپنے کا تب پر جو اسی کتاب کا کا تب ہے عدالت خفیفہ میں نالش کی ہے اور اس عاجز کو ایک واقعہ کا گواہ ٹھہرایا ہے۔اور ساتھ اُس کے ایک سرکاری سمن بھی آیا اور اس خط کے آنے کے بعد وہ فقرہ الہامی یعنی هَذَا شَاهِدٌ نَزَاغ جس کے یہ معنے ہیں کہ یہ گواہ تباہی ڈالنے والا ہے۔ان معنوں پر محمول معلوم ہوا کہ مہتم مطبع سفیر ہند کے دل میں یہ یقین کامل یہ مرکوز تھا کہ اس عاجز کی