خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 73
خطبات مسرور جلد 12 73 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 07 فروری 2014ء ہوا۔” دس دن کے بعد میں موج دکھاتا ہوں۔الا ان نضرَ اللهِ قَرِيبٌ فِي شَائِلٍ مِقْيَاسِ۔دن ول یو گوٹو امرت سر“۔(Then will you go to Amritsar)۔(حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ہی تشریح فرمائی ) یعنی دس دن کے بعد روپیہ آئے گا۔خدا کی مدد نزدیک ہے۔اور جیسے جب جننے کے لئے اونٹنی دُم اٹھاتی ہے تب اس کا بچہ جنا نزدیک ہوتا ہے ایسا ہی مد دالہی بھی قریب ہے۔اور پھر انگریزی فقرہ میں یہ فرمایا کہ دس دن کے بعد جب روپیہ آئے گا تب تم امرتسر بھی جاؤ گے۔تو جیسا اس پیشگوئی میں فرمایا تھا ایسا ہی ہندوؤں یعنی آریوں مذکورہ بالا کے رو برو وقوع میں آیا۔یعنی حسب منشاء پیشگوئی دس دن تک ایک خرمہرہ نہ آیا ( یعنی ایک کوڑی بھی نہ آئی ) ” اور دس دن کے بعد یعنی گیارھویں روز محمد افضل خان صاحب سپر نٹنڈنٹ بند و بست را ولپنڈی نے ایک سو دس روپیہ بھیجے اور بیست روپیہ ( ہمیں روپے ) ایک اور جگہ سے آئے اور پھر برا بر روپیہ آنے کا سلسلہ ایسا جاری ہو گیا جس کی امید نہ تھی۔اور اسی روز کہ جب دس دن کے گزرنے کے بعد محمد افضل خان صاحب وغیرہ کا روپیہ آیا۔امرتسر بھی جانا پڑا۔کیونکہ عدالت خفیفہ امرتسر سے ایک شہادت کے ادا کر نے کے لئے اس عاجز کے نام اسی روز ایک سمن آ گیا۔“ ( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد نمبر 1 صفحہ 561-559۔بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر 3) تو یہ تھا اس الہام کا پورا حصہ اور اس کی background۔اس کے آگے پھر ایک جگہ ایک اور حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مزید وضاحت بھی فرمائی ہے جس میں اس کے علاوہ ایک اور نشان کا بھی اظہار ہے۔فرمایا کہ: " کچھ عرصہ ہوا۔ایک صاحب نور احمد نامی جو حافظ اور حاجی بھی ہیں بلکہ شاید کچھ عربی دان بھی ہیں اور واعظ قرآن ہیں اور خاص امرتسر میں رہتے ہیں، اتفاقاً اپنی درویشانہ حالت میں سیر کرتے کرتے یہاں بھی آگئے۔چونکہ وہ ہمارے ہی یہاں ٹھہرے اور اس عاجز پر انہوں نے خود آپ ہی یہ غلط رائے جو الہام کے بارہ میں اُن کے دل میں تھی ، مدعیانہ طور پر ظاہر بھی کر دی۔اس لئے دل میں بہت رنج گزرا۔غلط رائے کا جو حوالہ ہے وہ یہ ہے کہ اُن کے ایک استاد مولوی صاحب تھے جن کے نام کا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ میں ذکر کیا ہوا ہے وہ یہ کہا کرتے تھے کہ انہیں الہام اولیاء اللہ کے بارے میں شک تھا۔تو یہ نور احمد صاحب بھی اُن سے متاثر تھے۔اس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرما