خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 75
خطبات مسرور جلد 12 75 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 فروری 2014ء شہادت جو ٹھیک ٹھیک اور مطابق واقعہ ہوگی، بباعث وثاقت اور صداقت اور نیز با اعتبار اور قابلِ قدر ہونے کی وجہ سے فریق ثانی پر تباہی ڈالے گی“۔( یعنی کہ اس کی سچائی بھی اور اس کی value ، قدر بھی اس کی ہو گی اور ٹھوس بھی ہوگی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو بیان ہے اس کی ہر لحاظ سے ایک اہمیت ہو گی اور اس اہمیت کی وجہ سے اُس کا خیال تھا کہ یہ دوسرے فریق پر تباہی ڈالے گی ) ” اور اسی نیت سے مہتمم مذکور نے اس عاجز کو ادائے شہادت کے لئے تکلیف بھی دی اور سمن جاری کرایا۔اور اتفاق ایسا ہوا کہ جس دن یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور امرتسر جانے کا سفر پیش آیا وہی دن پہلی پیشگوئی کے پورے ہونے کا دن تھا۔سو وہ پہلی پیشگوئی بھی میاں نور احمد صاحب کے روبرو پوری ہو گئی۔یعنی اُسی دن جو دس دن کے بعد کا دن تھا، روپیہ آ گیا اور امرتسر بھی جانا پڑا۔فالحمد للہ علی ذالک۔“ (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد نمبر 1 صفحه 562 تا 565۔بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر 3) آج میں نشانات کے حوالے سے اتنا ہی ذکر کرنا چاہتا تھا اور وہ جیسا کہ میں نے بتایا راہ ہدیٰ پروگرام میں ایک سوال کی وجہ سے اس کا ذکر ہوا ہے۔انشاء اللہ آئندہ نشانات کا ذکر ہوگا۔اس کے بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی جماعت کی عملی حالت کے بارے میں فکر کے حوالے سے آپ علیہ السلام کے بعض حوالے پیش کروں گا۔اس سے پہلے کہ میں آپ کی نصائح اور توقعات بیان کروں ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی سیرت میں جو ایک واقعہ درج فرمایا ہے، وہ بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ پر یہ بھی فضل اور احسان ہے کہ جب خلیفہ وقت کی کسی مضمون کی طرف توجہ ہوتی ہے تو وہ اگر اصلاحی پہلو ہے تو جماعت کا بڑا حصہ اصلاح کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس کا اندازہ مجھے خطوط سے بھی ہورہا ہے اور پھر بعض مددگار جو اللہ تعالیٰ نے خلافت کو عطا فرمائے ہوئے ہیں، وہ بھی اپنی یادداشت کے مطابق بعض حوالے نکال کر بھیج دیتے ہیں۔چاہے یہ حوالے پہلے پڑھے ہوں لیکن نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔تو سیرت کا جو حوالہ ہے جب میں پڑھوں گا تو اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی فکر کا اظہار فرمایا ہے۔یہ بھی ہمارے ایک مربی صاحب نے مجھے بھیجا کہ آپ خطبات میں عملی اصلاح کی اہمیت کے بارے میں بتا رہے ہیں، تو ایک حوالہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا بھی پیش ہے جو اس فکر کا اظہار کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا یہ حوالہ جو سیرت میں بیان کیا گیا ہے یوں ہے کہ: بیان کیا مجھ سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے کہ ایک دفعہ کسی کام کے متعلق میر صاحب