خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 770
خطبات مسرور جلد 12 770 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 دسمبر 2014ء بیعت میں آ کر اس پیشگوئی کے پورا کرنے کا اعلان کر رہی ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ آج اس وقت قادیان میں جلسہ ہورہا ہے تو اکتیس (31) ممالک کی نمائندگی ہے۔افریقہ کی نمائندگی بھی ہے اور ایشیا کی بھی ، عرب بھی ہیں اور مجم بھی ہیں۔امریکہ کی نمائندگی بھی ہے اور یورپ کی بھی۔آسٹریلیا کی بھی اور مشرق بعید اور جزائر کی بھی۔پس ایک ملک میں جلسے پر پابندیاں لگا کر مخالفین نے سمجھا تھا کہ ہم نے احمدیت کو بڑی کاری ضرب لگا دی۔دشمن نادان ہے سمجھتا نہیں کہ امام الزمان ہونے کا اعلان کرنے والے نے مسیح محمدی کا اعلان کرنے والے نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں جماعت قائم کر رہا ہوں بلکہ فرمایا تھا کہ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے۔پس اگر دشمنان احمدیت میں ہمت ہے تو خدا تعالیٰ سے مقابلہ کر لیں۔لیکن یاد رکھیں کہ مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے وہ پیارے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خاص تائید ونصرت ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ آپ کو تو اس زمانے میں اپنے دین کی عظمت قائم کرنے کے لئے مامور ہی خدا تعالیٰ نے کیا ہے۔پس مخالفت سے پہلے آپ کے اس اعلان پر غور کرنا چاہئے جس میں آپ نے فرمایا۔ایک شعر کا ایک مصرع ہے کہ ”اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 133) مخالفین کو یاد رکھنا چاہئے کہ افراد جماعت کو دی جانے والی عارضی تکلیفیں جماعتوں کو ختم نہیں کر سکتیں۔چند افراد کوتو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔اور پھر وہ جماعت جس کو اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت حاصل ہو اور خود اسے اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہو، کھڑا کیا ہو اس کو یہ کس طرح نقصان پہنچا سکتی ہیں۔پس ایک حکومت کیا تمام دنیا کی حکومتیں مل کر بھی دنیا سے جماعت احمدیہ کو نہیں مٹاسکتیں۔انشاء اللہ۔کیونکہ یہی وہ جماعت ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کامل اور مکمل دین کو حقیقی دین کی حقیقی تعلیم کو تمام افراط و تفریط سے پاک کر کے اس اصلی شکل میں قائم کرنا ہے جو ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے۔اپنے اس دعوئی کے بارے میں کہ جماعت کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ یوں بھی فرمایا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کو ختم نہیں کر سکتی۔فرماتے ہیں کہ : جو کام اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کے رسول کی برکات کے اظہار اور ثبوت کے لئے ہوں۔اور خود اللہ تعالیٰ کے اپنے ہی ہاتھ کا گایا ہوا پودا ہو پھر اس کی حفاظت تو خود فر شتے کرتے ہیں۔کون ہے جواس کو