خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 771
خطبات مسرور جلد 12 771 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 دسمبر 2014ء تلف کر سکے؟ یاد رکھو میر اسلسلہ اگرنزی دکانداری ہے تو اس کا نام ونشان مٹ جائے گا۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یقینا اسی کی طرف سے ہے تو ساری دنیا اس کی مخالفت کرے۔یہ بڑھے گا اور پھیلے گا اور فرشتے اس کی حفاظت کریں گے۔فرمایا کہ اگر ایک شخص بھی میرے ساتھ نہ ہو اور کوئی بھی مدد نہ دے تب بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ کامیاب ہوگا۔“ لملفوظات جلد 8 صفحہ 148) پس یہ الفاظ ہیں پر شوکت الفاظ ہیں اور اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر یہ الفاظ پیش کئے گئے ہیں۔پس یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ دشمن اپنی کوششیں کریں اور سلسلہ کو ختم کرسکیں۔لیکن ہمیں بھی یادرکھنا چاہئے کہ ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ہم جلسے منعقد کرتے ہیں، ہم جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے ہیں۔ہمیں یا درکھنا چاہئے کہ نہ یہ سلسلہ معمولی سلسلہ ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم فرمایا ہے۔نہ یہ جلسے معمولی جلسے ہیں جو آپ نے جاری فرمائے۔نہ ایک احمدی کا احمدی کہلا نا معمولی حیثیت رکھتا ہے بلکہ ہر احمدی پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر کوئی کمزور ہیں چلے بھی جائیں گے بلکہ ساری دنیا بھی مجھے چھوڑ دے گی تب بھی خدا تعالیٰ نہیں چھوڑے گا۔یہ اس کا وعدہ ہے۔پس احمدیوں کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ہر احمدی کی یہ ذمہ داری ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت میں حصہ دار بننے کے لئے وہ انقلاب اپنے اندر پیدا کرے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ماننے والوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔پس ہمارا صرف جلسے میں شامل ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ہمیں ان لوگوں میں شامل ہونے کی ضرورت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث بنتے ہیں۔لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ دعا کریں کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جلسے میں شامل ہونے والوں کے لئے جو دعائیں ہیں ان کو حاصل کرنے والے ہوں، ان کے وارث بنیں۔کیا ان دعاؤں کا وارث بننے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم جلسے میں شامل ہو گئے۔تین چار گھنٹے جلسے کی کارروائی سن لی۔نعرے لگا لئے اور بس کام ختم ہو گیا۔نہیں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ان دعاؤں کا وارث بننے کے لئے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ جو کچھ ہم سن رہے ہیں یا جس ماحول میں ہم نے ایک جوش پیدا کیا ہوا ہے یہ عارضی ہے یا مستقل ہماری ذمہ داریوں کا حصہ بننے والا ہے۔پس اگر یہ اثر جو جلسہ کے دوران ہوا