خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 764
خطبات مسرور جلد 12 764 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014ء کے علاوہ چار بیٹے ظہور احمد منصور احمد اور نصیر احمد اور عتیق احمد ہیں۔اسی طرح ان کے دو بھائی اور ایک ہمشیرہ ہیں جو سوگوار ہیں۔واقعہ کی کچھ مزید تفصیل اس طرح ہے کہ مبارک احمد باجوہ صاحب اور ان کے غیر از جماعت ملازم سکندر محمود کو جس کی عمر چودہ سال تھی کچھ لوگوں نے 26، 27 اکتوبر 2009 ء کی رات کو آج سے پانچ سال پہلے ان کے ڈیرے سے اغوا کر لیا۔اغوا کار دو کاروں پر سوار تھے۔چند دن بعد اغوا کاروں نے مذکورہ ملا زم کو ایک موبائل دے کر چھوڑ دیا۔پھر اس موبائل نمبر پر تاوان کے لئے رابطہ کیا۔دو کروڑ تاوان کی رقم کا مطالبہ کیا گیا جو کم ہو کے دس لاکھ پر آ گیا۔اغوا کاروں کی شرط یہ تھی کہ رقم کو ہاٹ یا پارہ چنار پہنچائی جائے۔پھر اغوا کاروں سے رابطہ ختم ہو گیا۔پولیس بھی کسی نتیجہ تک نہ پہنچ سکی۔اب مکرم امیر صاحب ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ نے اطلاع دی کہ ڈی پی او ضلع نے مغوی کے بھائی عزیز احمد باجوہ صاحب کو بلا کر کہا ہے کہ آپ کے بھائی کے بارے میں کچھ معلومات ڈی پی او گجرات کے پاس ہیں ان سے مل لیں۔وہ وہاں گئے۔ڈی پی او گجرات سے ملاقات ہوئی۔تو ڈی پی او گجرات نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان افضل فوجی گروپ ( یہ بھی بہت سارے گروپ وہاں بنے ہوئے ہیں ) کے چند لوگ پکڑے گئے ہیں۔جن میں واجد نامی شخص نے مبارک احمد باجوہ صاحب کو اغوا کرنے کے بعد چھریوں سے ذبح کر کے نعش کو بھمبر نالے میں دبانے کا انکشاف کیا ہے۔جب عزیز احمد باجوہ صاحب اور دیگر افراد مذکورہ زیر تفتیش واجد نامی شخص سے ملے تو اس نے بھی اس قتل کی تصدیق کی۔اس سوال پر کہ کیا کوئی مقامی آدمی بھی اس کے ساتھ تھا تو مذکورہ ملزم نے کہا کہ ساتھ والے گاؤں کا احمد نامی ایک شخص ساتھ تھا جس نے ہمیں مبارک احمد باجوہ مرحوم کے گستاخ رسول ہونے کا بتایا تھا۔یہ شخص پہلے عیسائی تھا۔بعد میں مسلمان ہو کر تحریک طالبان میں شامل ہو گیا۔اس کا والد باجوہ فیملی کا ملازم رہا تھا۔اور پھر اس نے یہ بھی بتایا کہ ہم نے اغوا کیا اور کوٹلی گاؤں میں مسجد کے تہہ خانے میں ان کو زنجیروں سے باندھ کر رکھا اور پھر ایک دن ہم نے عشاء کی نماز کے بعد ان کو اسی طرح جیسا کہ بتایا گیا ہے گردن پر چھری پھیر کے اور پھر ٹکڑے ٹکڑے کر کے گڑھے میں دبا دیا۔تو پولیس اہلکار نے مذکورہ مجرم سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا کہ ہمیں ہمارے کمانڈر کا حکم ہے کہ یہ لوگ گستاخ رسول ہیں لہذا ان کو قتل کر دو اور اس کا حکم ماننا ہمیں ضروری تھا۔یہ حال ہے۔ابھی بچوں کو قتل کیا تو یہ اب کس پاداش میں کیا۔یہ بھی طالبان کا ہی کام ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم شہید کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔بہر حال پتا تو لگ گیا۔صرف اغوا کی خبر تھی۔