خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 763
خطبات مسرور جلد 12 763 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014ء فرمایا ہے اور غیر مسلموں میں بھی اسلام کے بارے میں اس غلط تاثر کو زائل کریں کہ اسلام نعوذ باللہ شدت پسندی اور تلوار کامذہب ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ان کو یہ عقل آجائے۔پاکستان کے لئے اور مسلم ممالک کے لئے بہت دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان ملکوں میں امن قائم فرمائے اور حکومتیں بھی اور عوام الناس بھی حقیقی اسلامی قدروں کی پہچان کرنے والے بن سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کے اعلیٰ نمونے قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔شام، عراق، لیبیا وغیرہ میں احمدی ان حالات کی وجہ سے جن میں سے یہ ملک اس وقت گزر رہے ہیں ایک تو وہاں کے شہری ہونے کی وجہ سے اور پھر احمدی ہونے کی وجہ سے بھی تکلیف میں ہیں۔ان کے لئے بھی خاص دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کو ان مشکلات سے نجات دے۔بعض بڑی کسمپرسی کی حالت میں آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں۔دونوں گروہ احمدیوں کے مخالف بنے ہوئے ہیں۔کوئی مدد بھی ایسے حالات میں نہیں پہنچ سکتی۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنا فضل فرمائے اور رحم فرمائے اور جلد ان لوگوں کو ان تکلیف کے دنوں سے نکالے۔نمازوں کے بعد میں کچھ جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ تو ہمارے ایک شہید بھائی کا ہے۔مبارک احمد صاحب باجوہ ابن مکرم امیر احمد باجوہ صاحب چک 312 ج ب کتھو والی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ہیں۔ان کو شہید کیا گیا تھا۔اِنَّا لِلهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کو کچھ نامعلوم افراد نے 26 اکتوبر 2009ء کو ان کے ڈیرے سے اغوا کر لیا تھا اور ان کے بارے میں اب تک معلوم نہیں ہوسکا تھا۔تاہم چند روز قبل گجرات کے ایک علاقے سے گرفتار ہونے والے چند دہشتگردوں نے انکشاف کیا کہ ہم نے کتھو والی کے ایک مبارک باجوہ کو بھی گستاخ رسول قرار دے کر قتل کر کے بھمبر نالہ واقع ضلع گجرات میں گڑھا کھود کر دبا دیا۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اب یہ سارے فتوے دینے والے بھی بن گئے ہیں۔مبارک احمد صاحب کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے دادا مکرم پیر محمد صاحب کے ذریعے ہوا۔انہیں جماعت سے بہت لگاؤ تھا۔نہایت دیندار گھرانہ ہے۔شہید مرحوم پیدائشی احمدی تھے۔شہید مرحوم 1953ء میں پیدا ہوئے۔پرائمری تک تعلیم حاصل کی اور زمیندارہ کرتے تھے۔شہید مرحوم نہایت ایماندار، نیک دل، نیک سیرت ، شریف النفس اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ان کے والد امیراحمد باجوہ صاحب اور بھائی مکرم رشید احمد باجوہ صاحب دونوں یکے بعد دیگرے کتھو والی جماعت کے صدر جماعت بھی رہے۔ایک بیٹا ظہور احمد اس وقت بطور قائد مجلس خدمت کی تو فیق پار ہا ہے۔ان کی اہلیہ شاہد بیگم صاحبہ