خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 765
خطبات مسرور جلد 12 765 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014ء دوسرا جنازہ مکرمہ امینہ اوصاف صاحبہ ( کبابیر ) کا ہے جو 12 دسمبر 2014 ء کو بقضائے الہی وفات پاگئیں۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔پیدائشی احمدی تھیں۔آپ کے والد مکرم اوصاف صاحب حیفا کے ابتدائی احمد یوں میں سے تھے۔آپ کو صدر اور سیکرٹری تبلیغ لجنہ اماءاللہ کہا بیر کی حیثیت سے خدمت کی توفیق ملی۔نہایت عبادت گزار، دعا گو، بہت مہمان نواز، بکثرت مالی قربانی کرنے والی تھیں۔نیک، مخلص اور صالح خاتون تھیں۔دار التبلیغ میں آنے والے مہمانوں کی ضیافت کا خصوصی اہتمام کرتی تھیں۔مستورات کو بڑی عمدگی سے تبلیغ کیا کرتی تھیں۔مبلغین کے اہل و عیال سے بہت محبت اور حسن سلوک سے پیش آتیں۔مسجد محمود کہا بیر کی تعمیر ہورہی تھی تو آپ نے اس کے لئے خطیر رقم ادا کی اور دوران تعمیر کام کرنے والوں کی ضیافت کا بھی انتظام کیا۔خلفائے احمدیت سے انتہائی محبت اور عقیدت کا تعلق تھا۔بڑی توجہ سے میرے خطبات سنتی تھیں جو یہاں ایم ٹی اے پر نشر ہوتے ہیں۔دوسروں کو بھی اس کا خلاصہ سنایا کرتی تھیں۔ہر ارشاد پر دل و جان سے عمل پیرا ہونے کے لئے تیار رہتی تھیں۔بہت سے بچوں کو قرآن کریم پڑھنا سکھایا۔کہا بیر کے تمام احباب ان سے بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ان کو عمرہ کرنے کی بھی سعادت نصیب ہوئی۔قادیان جانے کی بھی شدید خواہش تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر جا کر دعا کروں۔تو یہ خواہش بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی پوری فرمائی۔بلکہ ایک دفعہ نہیں تین دفعہ جلسہ سالانہ میں آپ کو جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔مرحومہ موصیبہ تھیں اور مکرم محمد شریف عودہ صاحب امیر جماعت کہا بیر اور منیر عودہ صاحب ڈائریکٹر ایم ٹی اے پروڈکشن کی خالہ محترمہ تھیں۔منیر عودہ صاحب لکھتے ہیں کہ خالہ امینہ نے اپنی زندگی اسلام احمدیت کی خدمت میں گزاری۔انہوں نے اپنے بچوں کی طرح ہماری پرورش کی تھی اور جب میرے والدین کام کے سلسلے میں گھر سے دور جاتے تو وہ ہماری پرورش کرتیں۔بر وقت نمازیں پڑھنے پر سختی سے کار بند کیا۔جماعت کے اولین وصیت کرنے والوں میں شامل تھیں۔آپ کپڑے سینے کا کام کرتی تھیں اور محدود وسائل کے باوجود کسی سے مدد نہیں لیتی تھیں بلکہ خاندان میں بچوں کی تعلیم میں مدد کی۔اس طرح مشکلات میں کام آتی تھیں۔ان کی شادی نہیں ہوئی تھی۔غیر احمدی گھرانوں سے شادی کے پیغامات آئے لیکن آپ نے انکار کر دیا کہ میں احمدی ہوں اور احمدیت پر قائم رہیں اور کبھی شادی نہیں کی۔کہتے ہیں کہ وفات کے وقت میں آپ کے قریب موجود تھا اور آپ کے آخری الفاظ لا إلهَ إِلَّا الله تھے۔وفات سے قبل آپ نے وصیت کی تھی کہ آپ کا تمام مال و اسباب جماعت کے سپر د کر دیا جائے۔اسی طرح وہاں جو مشنری انچارج جو ہیں ان کی اہلیہ بشری نمس صاحبہ بھی