خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 755 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 755

خطبات مسرور جلد 12 755 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014ء واقعہ جس سے انسانیت چیخ اٹھی۔ہر شخص جس میں انسانیت کی ہلکی سی بھی رمق ہے چیخ اٹھا اور بے چین ہو گیا۔ایسے ہی خون کی ہولی آج سے قریباً ساڑھے چار سال پہلے لاہور میں ہماری مساجد میں بھی کھیلی گئی تھی۔یہاں کے ایک ٹی وی چینل نے غالباً بی بی سی نے پاکستان کے ہونے والے پانچ ایسے بدترین واقعات کا ذکر کیا جو گزشتہ چند سالوں میں پاکستان میں رونما ہوئے۔تو ان میں لاہور میں ہماری مساجد کا جو واقعہ تھا اس کا بھی ذکر کیا گیا۔بہر حال ہمارے اس صدمے کو اور ہم پر کئے گئے ظلم کو شاید مولوی کے خوف سے نہ ہی حکومت نے قابل توجہ سمجھا اور نہ ہی عوام الناس کی اکثریت نے ہمدردی اور افسوس کے قابل سمجھایا کیا گیا۔لیکن ہم احمدی تو انسانیت سے ہمدردی رکھنے والے ہیں اور انسانیت کو تکلیف میں دیکھ کر ہم بے چین ہو جاتے ہیں اور پھر جو پاکستان میں گزشتہ دنوں واقعہ ہوا یہ تو ہمارے ہم وطن اور شاید تمام ہی مسلمان کہلانے والے تھے جن کے لئے ہمارے دل رحم کے جذبات سے بھرے ہوئے ہیں۔ان کے لئے ہم بے چین ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا ہمارے اندر ہمدردی ہے۔ان پر ظلم دیکھ کر تو ہم نے بے چین ہونا ہی تھا اور ہوئے کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا یہ پاکستانی نہ صرف ہم میں سے یہاں بیٹھے ہوئے اکثر کے ہموطن، بلکہ مسلمان بھی ہیں۔اور پھر اس واقعہ میں بہیمیت کی انتہا کی گئی ہے کیونکہ اس ظلم کی بھینٹ چڑھنے والوں کی اکثریت جو تھی وہ معصوم بچوں کی تھی۔پانچ چھ سات سال کے بچے بھی تھے۔دس گیارہ بارہ تیرہ سال تک کی عمر کے بچے تھے۔ایسے بچے بھی بیچ میں شہید ہوئے جو پانچ چھ سال کے تھے جن کو شاید دہشت گردی اور غیر دہشت گردی کا کچھ علم بھی نہیں تھا۔مسلمان اور غیر مسلم میں کیا فرق ہے۔یہ بھی نہیں پتا ہوگا۔لیکن بڑے ظالمانہ طریقے سے ان کی جان لی گئی۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی مغفرت اور رحمت کی چادر میں لپیٹ لے اور ان کے والدین کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ان بچوں کو اس لئے ظلم کا نشانہ بنایا گیا کہ پاکستان میں فوج سے ان نام نہاد شریعت کے نافذ کرنے والوں نے بدلہ لینا تھا۔یہ کونسا اسلام ہے اور کونسی شریعت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جنگ کی صورت میں غیر مسلموں کے بچوں اور عورتوں پر بھی تلوار اٹھانے کی سختی سے ممانعت فرمائی تھی۔جنگ کے دوران ایک مشرک کے بچے کو قتل کرنے پر جب آپ نے اپنے صحابی سے باز پرس کی تو صحابی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! یہ مشرک کا بچہ تھا۔اگر غلطی سے قتل ہو بھی گیا تو کیا ہوا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا وہ انسان کا معصوم بچہ نہیں تھا؟ (ماخوذ از مسند احمد بن حنبل جلد 5صفحه 365مسند الاسود بن سراح حدیث 15673 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء)