خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 756 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 756

خطبات مسرور جلد 12 756 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014ء پس یہ معیار ہیں جو ہمیں انسانیت کے تقدس کو قائم کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ سے نظر آتے ہیں۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے اور اسلام کے نام پر ظلم کرنے والوں کے یہ عمل ہیں جو ہم عمو ماد یکھتے رہتے ہیں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا اس سفا کا نہ ظلم پر ہر انسان نے دکھ کا اظہار کیا۔چاہے وہ مسلمان تھے یا غیر مسلم تھے۔یہاں دو دن پہلے چرچ آف انگلینڈ نے عورت کو اپنی پہلی بشپ بنایا۔ان کی تقریب ہورہی تھی تو انہوں نے بھی اپنی تقریب سے پہلے اس واقعہ پر دکھ کا اظہار کیا۔ایک منٹ کے لئے خاموشی اختیار کی۔اپنے انداز میں دعائیں کیں۔تو بہر حال کہنے کا یہ مقصد ہے کہ ہر انسان کو اس واقعہ سے تکلیف پہنچی قطع نظر اس کے کہ اس کا مذہب کیا تھا۔لیکن ان مسلمان کہلانے والوں نے ، ایک دو نہیں بلکہ تین چار تنظیموں نے اکٹھی ہو کر بڑے فخر سے اس بات کا اعلان کیا کہ ہاں ہم ہیں جنہوں نے یہ ظلم کیا ہے اور ہمیں اس بات پر کوئی شرمندگی نہیں۔پس ہم دیکھتے ہیں کہ تھوڑی سی شرافت رکھنے والے انسان نے بھی اس پر دکھ کا اظہار کیا ، افسوس کیا اور جیسا کہ میں نے کہا کہ احمدیوں کے دل میں تو انسانیت کے لئے درد انتہائی زیادہ ہے۔ہم تو انسانی ہمدردی کے لئے ہر وقت تیار رہنے والے ہیں۔ذرا سا واقعہ ہو جائے تو ہمارے دل پسیج جاتے ہیں۔مجھے کئی خطوط موصول ہوئے کہ اس واقعہ سے سارا دن ہم بے چینی اور تکلیف میں رہے اور یہ حقیقت ہے۔میرا اپنا یہ حال تھا کہ سارا دن طبیعت پر بڑا اثر رہا اور جب ایسی کیفیت ہوتی ہے تو پھر ظالموں کے نیست و نابود ہونے کے لئے بددعا ئیں نکلتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان ظالموں اور بدبختوں سے جلد ملک کو پاک کرے بلکہ تمام اسلامی ممالک کو پاک کرے۔یہ واقعات دیکھ کر احمد یوں پر ہوئے ہوئے ظلموں کے زخم بھی تازہ ہوتے ہیں۔لیکن ان معصوموں کے لئے بھی شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان بچوں کو بھی حوصلہ دے، صبر دے اور ان پر رحم فرمائے ، ان کا کفیل ہو جن کے ماں باپ بھی اُن سے چھن گئے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ یہ شدت پسندی اور ظلم کے واقعات تقریباً تمام مسلمان کہلانے والے ملکوں کا المیہ ہے۔یہ ایک پاکستان کی بات نہیں ہے۔عراق، شام، لیبیا وغیرہ سب ملکوں میں ظلم ہو رہا ہے۔اور سب سے بڑھ کر ظلم کی بات یہ ہے کہ یہ سب ظلم خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہو رہا ہے۔شام میں ہی حکومتی اور سنی فسادوں میں ایک رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب لوگ مارے گئے ہیں۔کل جتنی اموات ہوئی ہیں ان میں سے چھ ہزار چھ سو بچے مارے گئے۔ایک بٹا