خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 754
خطبات مسرور جلد 12 754 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 19 دسمبر 2014 ء بمطابق 19 فتح 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ ظلم و بربریت کے جتنے نمونے یا واقعات ہمیں مسلمان کہلانے والے ممالک میں نظر آتے ہیں وہ دوسرے غیر مسلم ممالک میں نہیں ہیں۔یا کم از کم وہاں ظاہراً یہ نمونے اتنی کثرت سے نہیں ہیں اور جب واقعات ہوتے ہیں تو عموماً ان کے خلاف ان ترقی یافتہ ممالک میں یا غیر مسلم ممالک میں آواز بھی بڑے زور دار طریقے سے اٹھائی جاتی ہے۔چاہے یہ ظلم حکومتی کارندوں کی طرف سے ہو یا کسی گروپ یا فرد کی طرف سے ہورہا ہو۔گزشتہ دنوں میں امریکہ میں بھی واقعات ہوئے اور وہاں بڑے پر زور احتجاج ہوئے۔لیکن اسلام پیار محبت اور بھائی چارے کی جتنی تلقین کرتا ہے آجکل کی مسلمان حکومتیں اور اسی طرح اسلام کے نام پر جو دوسرے گروپ بنے ہوئے ہیں وہ گروہ یا تنظیمیں اتنا ہی ذاتی مفادات کی خاطر یا امن قائم کرنے کے لئے یا اسلام کے نام پر ظلم کا مظاہرہ کرتے ہیں۔گویا کہ اسلام کی تعلیم کے بالکل الٹ چل رہے ہیں اور آجکل اسلام کے نام پر یا شریعت کے نافذ کرنے کے نام پر بے شمار شدت پسند تنظیمیں بن چکی ہیں جو ایسے ایسے ظلم کے مظاہرے کر رہی ہیں کہ انسان انہیں دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ یہ حرکتیں انسان کر رہے ہیں یا انسانوں کے رُوپ میں حیوانوں سے بھی بدتر کوئی مخلوق کر رہی ہے۔گزشتہ دنوں پاکستان میں ظلم کی ایک ایسی صورت ہمارے سامنے آئی جوصرف ظلم ہی نہیں تھا بلکہ درندگی اور سفا کی کی بدترین مثال تھی۔ایسی چیز جس سے ایک انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایسا