خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 750
خطبات مسرور جلد 12 750 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء فرمایا خواجہ صاحب! آپ کیوں پریشان ہو گئے ہیں۔خدا تعالیٰ کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے۔چنانچہ یہی ہوا۔وہ دو مجسٹریٹ تھے جن کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ان دونوں کو بڑی سخت سزا ملی۔ان میں سے ایک تو معطل ہوا اور ایک کا بیٹا پاگل ہو گیا اور چھت پر سے چھلانگ مار کر مر گیا۔پھر اس پر یہ اثر تھا۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ (ایک دفعہ ) میں دتی جا رہا تھا کہ وہ لدھیانے کے اسٹیشن پر مجھے ملا اور کہنے لگا دعا کریں۔میرا ایک اور بیٹا ہے خدا تعالیٰ اسے بچالے۔مجھ سے بہت غلطیاں ہوئی ہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ بات پوری ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے شیر پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے اور آریوں کو ان کے مقصد میں کامیابی نہ ہوئی۔پس اگر انسان اللہ تعالیٰ کا ہو جائے تو پھر دنیا کی ہر شئے اس کی ہو جاتی ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا تھا کہ جے تو میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو ، یعنی اگر تو خدا تعالیٰ کا ہو جائے تو سب جہان تیرا ہو جائے گا۔دنیا کی کوئی چیز تمہیں ضرر نہیں پہنچا سکے گی اور کوئی دشمن تمہارے خلاف کوئی شرارت نہیں کر سکے گا۔پس تم اللہ تعالیٰ کے بنو اور دعا کرتے رہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ہو جاؤ اور اس طرح تم بھی امن میں آ جاؤ اور تمہاری اولاد اور دوسرے عزیز اور دوست بھی امن میں آجائیں۔یاد رکھو جب تک جماعت امن میں نہیں رہے گی تم بھی امن میں نہیں رہ سکتے اور جماعت اس وقت امن میں رہ سکتی ہے جب تمہاری آئندہ نسلیں امن میں ہوں۔“ (ماخوذ از الفضل 30 مارچ 1957 صفحہ 7-6 جلد 11 / 46 نمبر 77) پھر اسی مقدمے کے سلسلے میں ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ ” مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جب پادری مارٹن کلارک نے مقدمہ کیا تو میں نے گھبرا کر دعا کی۔رات کو رویا میں دیکھا کہ میں سکول سے آ رہا ہوں اور اس گلی میں سے جو مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکانات کے نیچے ہے اپنے مکان میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہوں۔وہاں مجھے بہت سی باوردی پولیس دکھائی دیتی ہے۔پہلے تو ان میں سے کسی نے مجھے اندر داخل ہونے سے روکا، پھر مگر کسی نے کہا یہ گھر کا ہی آدمی ہے اسے اندر جانے دینا چاہئے۔جب ڈیوڑھی میں داخل ہو کر اندر جانے لگا تو وہاں ایک تہہ خانہ ہوا کرتا تھا جو ہمارے دادا صاحب مرحوم نے بنایا تھا۔ڈیوڑھی کے ساتھ سیڑھیاں تھیں جو اس تہہ خانے میں اترتی تھیں۔بعد میں یہاں صرف ایندھن اور پیچے پڑے رہتے تھے۔( یعنی کاٹھ کباڑ ہوتا تھا۔) جب میں گھر میں داخل ہونے لگا تو میں نے دیکھا کہ پولیس والوں نے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھڑا کیا ہوا ہے اور آپ کے آگے بھی اور پیچھے بھی اوپلوں کا انبار لگایا ہوا ہے۔صرف آپ کی گردن مجھے نظر آ رہی ہے اور میں نے دیکھا