خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 751
خطبات مسرور جلد 12 751 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء کہ وہ سپاہی ان او پلوں پر مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔جب میں نے انہیں آگ لگاتے دیکھا تو میں نے آگے بڑھ کر آگ بجھانے کی کوشش کی۔اتنے میں دو چار سپاہیوں نے مجھے پکڑ لیا۔کسی نے کمر سے اور کسی نے قمیص سے اور میں سخت گھبرایا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ اوپلوں کو آگ لگادیں۔اسی دوران میں اچانک میری نظر او پراٹھی اور میں نے دیکھا کہ دروازے کے اوپر نہایت موٹے اور خوبصورت حروف میں یہ لکھا ہوا ہے کہ : ”جو خدا کے پیارے بندے ہوتے ہیں ان کو کون جلا سکتا ہے ( تو فرماتے ہیں کہ ) ” تو اگلے جہان میں ہی نہیں یہاں بھی مومنوں کے لئے سلامتی ہوتی ہے۔ہم نے اپنی آنکھوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایسے بیسیوں واقعات دیکھے کہ آپ کے پاس گونہ تلوار تھی نہ کوئی اور سامان حفاظت مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کے سامان کر دیئے۔“ ( سیر روحانی (3)، انوار العلوم جلد 16 صفحہ 383) کیپٹن ڈگلس صاحب نے جو واقعہ ایک آئی سی ایس افسر کو بیان کیا تھا۔اس میں ایک بات یہ بھی بیان کی تھی کہ مجھے بڑی سخت گھبراہٹ تھی کہ مقدمہ غلط ہے تو کہتے ہیں بہر حال میں نے فیصلہ کر لیا اور حق ثابت ہو گیا۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ میں نے مرزا صاحب جیسا وسیع الحوصلہ بھی کوئی نہیں دیکھا۔باوجود اس کے کہ ان پر ایک خطرناک جرم لگا کر انہیں خطرے میں ڈالا گیا تھا پھر بھی جب میں نے انہیں کہا یعنی عدالت نے جب انہیں کہا کہ آپ ان پر اپنی ہتک کا دعویٰ کر سکتے ہیں تو انہوں نے کہہ دیا کہ میں نہیں کرنا چاہتا۔(ماخوذ از ضمیمه اخبار الفضل قادیان 21 اکتوبر 1927 صفحہ 22-21) ان تمام مخالفتوں کے باوجود جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سامنا کرنا پڑا یہ آپ کا حوصلہ تھا۔اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق نہ صرف آپ محفوظ رہے بلکہ آپ کی جماعت بھی بڑھتی رہی۔قادیان بھی ترقی کرتا رہا۔اسی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا کہ یہاں احمدیوں کو مسجدوں میں نہیں جانے دیا جاتا تھا۔مسجد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔چوک میں کیلے گاڑ دیئے گئے تا نماز پڑھنے کے لئے جانے والے گریں اور کنویں سے پانی نہیں بھرنے دیا جاتا تھا بلکہ یہاں تک سختی کی جاتی تھی کہ گھماروں کو ممانعت کر دی گئی تھی کہ احمدیوں کو برتن بھی نہ دیں۔“ جو مٹی کے برتن بنانے والے ہیں ان کو بھی منع کر دیا گیا تھا۔ایک زمانہ میں یہ ساری مشکلات تھیں مگر اب وہ لوگ کہاں ہیں۔ان کی اولاد میں احمدی ہو گئی ہیں اور وہی لوگ جنہوں نے احمدیت کو مٹانے کی کوشش کی ان کی اولادیں اسے