خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 745 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 745

خطبات مسرور جلد 12 745 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء نظر کس طرف ہے۔چپڑاسی نے جب کمشنر صاحب کے الفاظ سنے تو اس نے مولوی محمد حسین صاحب کو باز و سے پکڑ کر جوتیوں میں لاکھڑا کیا۔مولوی صاحب نے دیکھا کہ میری ذلت ہوئی ہے۔باہر ہزاروں آدمی کھڑے ہیں اگر انہیں میری اس ذلت کا علم ہوا تو وہ کیا کہیں گے؟ تو کمرہ عدالت سے باہر نکلے۔برآمدے میں ایک کرسی پڑی تھی۔مولوی صاحب نے سمجھا کہ اس ذلت کو چھپانے کا بہترین موقع ہے۔جھٹ کرسی کھینچی اور اس پر بیٹھ گئے اور خیال کر لیا کہ لوگ کرسی پر بیٹھے دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ مجھے اندر بھی کرسی ملی تھی۔چپڑاسی نے دیکھ لیا وہ ڈپٹی کمشنر صاحب کا انداز دیکھ چکا تھا۔اس نے مولوی محمد حسین صاحب کو کرسی پر بیٹھے دیکھ کر خیال کیا کہ اگر ڈپٹی کمشنر صاحب نے انہیں یہاں بیٹھا دیکھ لیا تو وہ مجھ پر ناراض ہوں گے۔اس خیال کے آنے پر اس نے مولوی صاحب کو وہاں سے بھی اٹھا دیا اور کہا کہ کرسی خالی کر دیں۔چنانچہ برآمدے والی کرسی بھی چھوٹ گئی۔باہر آگئے تو لوگ چادر میں بچھائے انتظار میں بیٹھے تھے کہ مقدمے کا کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ایک چادر پر کچھ جگہ خالی دیکھی تو وہاں جا کر بیٹھ گئے۔یہ چادر ( حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ) میاں محمد بخش صاحب مرحوم بٹالوی کی تھی جو مولوی محمد حسین صاحب مربی سلسلہ کے والد تھے۔( جن کی یہ چادر تھی ان کے بیٹے مربی سلسلہ تھے۔بعد میں مربی بنے۔) اور اس وقت یہ محمد بخش صاحب جو تھے ) غیر احمدی تھے ( احمدی نہیں ہوئے تھے بعد میں احمدی ہو گئے۔تو کہتے ہیں بہر حال یہ چادر ان کی تھی۔انہوں نے مولوی محمد حسین صاحب کو اپنی چادر پر بیٹھے دیکھا تو غصے میں آگئے اور کہنے لگے۔میری چادر چھوڑ۔تو نے تو میری چادر پلید کر دی ہے۔تو مولوی ہو کر عیسائیوں کی تائید میں گواہی دینے آیا ہے۔چنانچہ اس چادر سے بھی انہیں اٹھنا پڑا اور اس طرح ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا۔تو دیکھو یہ آیات بینات ہیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک دشمن کے ہاتھوں سے بری فرمایا۔پھر اس پر ہی بس نہیں۔سر ڈگلس کو خدا تعالیٰ نے اور نشانات بھی دکھلائے جو مرتے دم تک انہیں یادر ہے اور ( حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ ) انہوں نے ( سرڈگلس نے ) خود مجھ سے بھی بیان کئے۔1924ء میں جب میں انگلینڈ گیا تو یہ سارا قصہ مجھ سے بیان کیا۔سر ڈگلس کے ایک ہیڈ کلرک تھے جن کا نام غلام حیدر تھا۔وہ راولپنڈی کے رہنے والے تھے بعد میں وہ تحصیلدار ہو گئے تھے۔(سرگودھا کے شاید رہنے والے تھے۔انہوں نے خود مجھے یہ قصہ سنایا اور کہا جب ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک والا مقدمہ ہوا تو میں ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کا ہیڈ کلرک تھا۔جب عدالت ختم ہوئی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا کہ ہم فوراً گورداسپور جانا چاہتے ہیں۔تم ابھی جا کر ہمارے لئے ریل کے کمرے کا