خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 744 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 744

خطبات مسرور جلد 12 744 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 دسمبر 2014ء الدین صاحب کو اس کی تعمیل کرنے کے لئے قادیان بھیجا گیا۔چنانچہ بعد میں مقررہ تاریخ پر آپ بٹالہ حاضر ہوئے جہاں ڈپٹی کمشنر صاحب دورہ پر آئے ہوئے تھے۔جب آپ عدالت میں پہنچے تو وہی ڈپٹی کمشنر جس نے چند دن پہلے کہا تھا کہ یہ شخص خداوند یسوع کی ہتک کر رہا ہے اس کو کوئی پکڑتا کیوں نہیں ؟ اس نے آپ کا بہت اعزاز کیا ( جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ ) عدالت میں کرسی پیش کی اور (یہ بھی ) کہا کہ آپ بیٹھے بیٹھے میری بات کا جواب دیں۔اس مقدمے میں (جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے ) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی بطور گواہ کے پیش ہوئے۔(اس وقت عدالت کے باہر ایک بہت بڑا ہجوم بھی تھا اور لوگ بڑے شوق سے مقدمہ سننے کے لئے آئے ہوئے تھے۔جب مولوی محمد حسین صاحب عدالت میں پہنچے اور ( جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کرسی پر بیٹھے دیکھا تو آگ بگولہ ہو گئے۔کیونکہ وہ تو سوچ کے آئے تھے کہ جب میں جاؤں گا تو مرزا صاحب کو ہتھکڑی لگی ہوگی اور بڑی ذلت کی حالت ہوگی۔( لیکن یہ تو بالکل الٹ ہورہا تھا۔) مقدمہ ایک انگریز ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں پیش ہوا تھا۔مدعی بھی ایک انگریز پادری ڈاکٹر مارٹن کلارک تھا۔( ان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ انگریز تھے لیکن درحقیقت وہ کسی پٹھان کی نسل میں سے تھے جس نے ایک انگریز سے شادی کی ہوئی تھی اور وہ انگریز کالے پالک بھی تھا۔) مولوی محمد حسین صاحب جیسے مشہور عالم بطور گواہ پیش ہو رہے تھے مگر پھر بھی دشمن ناکام و نامرادر ہا اور جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اعزاز کیا گیا۔وہاں آپ کے مخالفین کو ذلت ورسوائی کا منہ دیکھنا پڑا۔مولوی محمد حسین صاحب نے جب دیکھا کہ آپ کو کرسی پیش کی گئی ہے ( جیسے پہلے ذکر ہو چکا ہے ) اور بجائے اس کے مجھے گواہوں کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے تو وہ اس پر بڑے سیخ پا ہوئے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو کہا کہ مجھے بھی کر سی دی جائے۔اس وقت انگریز مولویوں کو بہت ذلیل سمجھتے تھے۔وہ (ڈپٹی کمشنر ) کہنے لگا کہ ہماری مرضی ہے ہم جسے چاہیں کرسی پر بٹھا ئیں اور جسے چاہیں کرسی نہ دیں۔وہ کہنے لگا کہ ” میں نے دیکھا ہے کہ ان کا خاندان کرسی نشین ہے اس لئے میں نے انہیں کرسی دی ہے۔تمہاری حیثیت کیا ہے؟ مولوی محمد حسین صاحب کہنے لگے کہ میں اہلحدیث کا ایڈووکیٹ ہوں اور میں گورنر کے پاس جاتا ہوں ( اور بڑی باتیں کی۔تو اس نے کہا تم مجھے جاہل آدمی لگتے ہو۔گورنر کے پاس تو کوئی بھی آدمی جائے گا کرسی پیش کی جائے گی۔یہ عدالت ہے گورنر کا دربار نہیں ہے۔بہر حال ان کی تسلی نہ ہوئی۔پھر مولوی محمد حسین صاحب نے ڈپٹی کمشنر سے بحث کرنی شروع کر دی۔ڈپٹی کمشنر کو ( بھی ) غصہ آ گیا اور اس نے کہا بک بک مت کرو۔پیچھے ہٹو اور جوتیوں میں کھڑے ہو جاؤ۔چپڑاسی تو دیکھتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی