خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 692
خطبات مسرور جلد 12 692 خدا تعالیٰ کی محبت ایک نور۔پس نو ر اور ظلمت کیسے جمع ہو سکتے ہیں“۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 نومبر 2014ء خطبات محمود جلد 17 صفحہ 470-471) پس ہمیں اپنے جائزے لیتے رہنا چاہئے اور اکثر میں توجہ دلا تا بھی رہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آ کر ہمیں دوسروں سے مختلف نظر آنا چاہئے۔خدا تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور یقین میں بھی ہمیں دوسرے سے مختلف نظر آنا چاہئے اور بڑھے ہوئے ہونا چاہئے۔عبادات میں بھی ہمیں دوسروں سے مختلف نظر آنا چاہئے۔اعلیٰ معیاروں کو پانے کی کوشش کرنے والے بھی ہم دوسروں کی نسبت زیادہ ہونے چاہئیں۔اعلیٰ اخلاق میں بھی ہمیں امتیازی حیثیت حاصل ہونی چاہئے۔قانون کی پابندی میں بھی ہم ایک مثال ہونے چاہئیں۔غرض کہ ہر چیز میں ایک احمدی کو دوسروں سے ممتاز ہونے کی ضرورت ہے تبھی ہم جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں بیعت سے صحیح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔احسان اور حسن سلوک کا ایک واقعہ یہ بیان فرماتے ہیں۔ایک دفعہ ایک افسر حضرت مسیح موعود سے ایک معاملے میں ( ملنے آئے اور ) کہا کہ یہ لوگ ( یعنی قادیان کے رہنے والے غیر از جماعت یا ہندو وغیرہ جو تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بعض دفعہ حکام کو ، حکومت کے کارندوں کو غلط شکایات کیا کرتے تھے۔تو بہر حال ایک دفعہ ایک افسر حکومت کے قادیان آئے اور کہا کہ یہ لوگ) آپ کے شہری ہیں۔آپ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کریں۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو انہوں نے کہا۔) تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ اس بڑھے شاہ ہی کو (وہاں ایک شخص تھا کوئی بڑھے شاہ اسی کو ) پوچھو کہ آیا کوئی ایک موقع بھی ایسا آیا ہے جس میں اس نے اپنی طرف سے نیش زنی نہ کی ہو۔(جتنا نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاسکتی ہے نہ کی ہو ) اور پھر اس سے ہی پوچھو کہ کیا کوئی ایک موقع بھی ایسا آیا ہے کہ جس میں میں اس پر احسان کر سکتا تھا اور پھر میں نے اس کے ساتھ احسان نہ کیا ہو۔(بس) آگے وہ سر ڈال کر ہی بیٹھا رہا، ( بولا نہیں کچھ۔) یہ ایک عظیم الشان نمونہ تھا آپ کے اخلاق کا۔پس ہماری جماعت کو بھی چاہئے کہ وہ اخلاق میں ایک نمونہ ہو۔معاملات کی آپ میں (ایک) ایسی صفائی ہو کہ اگر ایک پیسہ بھی گھر میں نہ ہو تو امانت میں ہاتھ نہ ڈالیں اور بات اتنی میٹھی اور ایسی محبت سے کریں کہ جو دوسروں کے دل پر اثر کرے۔“ خطبات محمود جلد 10 صفحہ 277-278) اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ انسان جس چیز کا عادی ہو جائے وہ تکلیف نہیں رہتی۔